اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 34
دوسرے خطوں میں دیگر مذاہب کی کتب بھی بلاشبہ اسی خدا کی ہیں۔جہاں تک ان میں دکھائی دینے والے تضادات کا تعلق ہے قرآن انہیں انسانی دست برد کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ قرآن کریم کا دیگر مذہبی کتب کے متعلق یہ نظریہ کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ اور مذاہب کے مابین امن کو فروغ دینے والا ہے۔(۲) دوسرے سوال کے ضمن میں قرآن مجید ہماری توجہ انسانی معاشرہ کے ہر شعبہ میں جاری ارتقائی عمل کی طرف مبذول کرواتا ہے۔نئے مذہب کی ضرورت اولاً اس لئے تھی کہ پرانے مذہب کی اس بنیادی تعلیم کو از سرنو زندہ کیا جائے جس میں لوگوں نے بگاڑ پیدا کر دیا تھا۔دوسری وجہ یہ تھی کہ معاشرہ کے ارتقاء کے ساتھ قدم ملا کر چلا جا سکے۔(۳) یہی نہیں بلکہ مذاہب میں تبدیلی کے اس عمل کا ایک اور بھی محرک تھا کہ سابقہ مذاہب میں ثانوی حیثیت کی حامل بعض وقتی اور عارضی تعلیمات بھی دی گئی تھیں جو محض ایک خاص دور کے اور خاص لوگوں کی ضروریات کو پوری کرتی تھیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ مذاہب کی تعلیمات صرف غیر مبدل اصولوں کے ایک مرکزی حصہ پر ہی مشتمل نہیں تھیں بلکہ ان میں ثانوی اور فروعی نوعیت کی حامل عبوری اور وقتی تعلیمات بھی شامل تھیں۔ظاہر ہے کہ وقت گزرنے کے بعد ان تعلیمات کا تبدیل ہونا ناگزیر تھا۔(۴) ایک اور بات جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے کسی طرح کم نہیں ہے، یہ ہے کہ انسان کی روحانی تعلیم و تربیت کا سفر در حقیقت ایک ہی جست میں طے نہیں ہوا بلکہ بتدریج ہوا ہے۔یہاں تک کہ انسان اتنی ذہنی بلوغت کو پہنچ گیا اور اس قابل ہو گیا کہ ان تمام بنیادی اور دائمی اصولوں کا علم اسے عطا کر دیا جائے جو اس کی کامل ہدایت کے لئے ضروری تھے۔قرآن کریم کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ ثانوی اور 34