اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 36
پیغام اور نظریات کو پھیلائیں اور دوسرے مذاہب پر اپنے مذہب کی فضیلت اور برتری ثابت کرنے کی کوشش کریں۔امر واقعہ یہ ہے کہ خود اسلام سب ادیان پر اپنے آخری غلبے کو ایک عظیم الشان اور ارفع منزل قرار دیتا ہے اور مسلمانوں کو ہمیشہ اس منزل کے حصول کیلئے کوشاں رہنے کی تلقین اور تاکید کرتا ہے۔قرآن کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے۔قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا نِ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ قَامِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ كَلِمَتِهِ وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (سورۃ الاعراف آیت ۱۵۹) ترجمہ۔تو کہہ دے کہ اے انسانو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں جس کے قبضے میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔وہ زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔پس ایمان لے آؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی پر جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے اور اسی کی پیروی کرو تا کہ تم ہدایت پا جاؤ۔تاہم اسلام ایک واضح ضابطہ اخلاق بھی دیتا ہے تا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان کسی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہو اور رنجشیں اور غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔یہ ضابطہ اخلاق حسن معاملہ، انصاف اور آزادی تقریر و تحریر کو یقینی بناتا ہے اور دوسروں سے اختلاف رکھنے کا سب کو یکساں حق دیتا ہے۔اشاعت دین کے ذرائع : جبر کی بکلی نفی یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مذہب عالمگیر ہونے کا دعوی بھی کرے اور مختلف مذاہب 36 36