اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 292

یہ ہے کہ آج دنیا بھر کے عظیم سیاست دانوں میں سے محض گنتی کے چند نام ہوں گے جو ہلاکت اور امن کے فرق کو سمجھتے ہیں۔ہلاکت نتیجہ ہے طاقتور کے ہاتھوں نا انصافی جبر و استبداد اور ظلم و ستم کا جبکہ امن و آشتی عدل و انصاف کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم میں کئی بار امن کا ذکر آیا ہے اور ہر بار یہ ذکر عدل و انصاف کے ضمن میں کیا گیا ہے۔بالعموم امن کو عدل و انصاف کے قیام کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے۔دو مسلمان افراد یا اقوام کے مابین اختلاف اگر جنگ اور محاذ آرائی کی شکل اختیار کرے تو قرآن کریم نے اس کا مندرجہ ذیل حل تجویز فرمایا ہے۔وَإِنْ طَائِفَتَنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۚ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدُهُمَا عَلَى الأخرى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا ج بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوابَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ وه (سورۃ الحجرات آیات ۱۰-۱۱) ترجمہ :۔اور اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ۔پس اگر ان میں سے ایک دوسری کے خلاف سرکشی کرے تو جو زیادتی کر رہی ہے اس سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے فیصلہ کی طرف لوٹ آئے۔پس اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان عدل سے صلح کرواؤ اور انصاف کرو۔یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ان آیات کریمہ میں مومنوں کا ذکر ہے۔غیر مسلموں کا ذکر نہ کرنے کی واضح وجہ یہ ہے کہ ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ قرآن کریم کی اطاعت کا جوا اٹھائیں 292