اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 293

گے۔بایں ہمہ یہ بھی درست ہے کہ ان آیات میں بیان فرمودہ تعلیم ساری دنیا کے لئے ایک بہترین ماڈل کے طور پر کام دے سکتی ہے۔آج دنیا یہ امید لگائے بیٹھی ہے کہ عالمی تنازعات کے حل کے لئے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل پہلے سے کہیں زیادہ فعال، مؤثر، وسیع اور با معنی کردار ادا کرے گی اور کرہ ارض امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا یہ سب امیدیں اپنی جگہ لیکن ماضی میں اقوام متحدہ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔آج دنیا ایک عجیب منظر پیش کر رہی ہے۔اپنے مد مقابل پر برتری حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں، سازشیں کی جاتی ہیں، جتھے بنائے جاتے ہیں، پریشر گروپس بنانے کے لئے ڈپلومیسی کی انتہا کر دی جاتی ہے سیاست کی یہ وہ دنیا ہے جہاں دیانت اور شرم و حیا بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں اور جہاں ضمیر کا داخلہ ممنوع ہے۔ایسا ادارہ (اپنے اختلاف اور تضادات کے با وجود ) قوموں کا ایک جم غفیر تو کہلا سکتا ہے مگر اسے اقوام متحدہ کہنا ایک سنگین مذاق سے کم نہیں۔اگر اسے اتحاد کہتے ہیں تو میں ایسی اقوام میں رہنے کا خطرہ مول لے لوں گا جو بے شک باہمی تفرقہ کا شکار ہیں لیکن کم از کم صدق اور عدل و انصاف کے معاملہ میں تو متحد ہیں۔اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو کچلنے کے لئے طاقت حاصل کرنا اور باتیں امن کی کرنا۔قول و فعل میں یہ تضاد ہی وہ اہم ترین مسئلہ ہے جسے ہر قوم اور ہر ملک کوحل کرنا ہوگا۔یہ حیرت اور دکھ کی بات ہے کہ اقوام متحدہ جیسے شاندار ادارہ کے رکن ممالک نہ جانے کب تک ان خطرات سے آنکھیں بند کئے بیٹھے رہیں گے جو اس طریق میں مضمر ہیں جس کے مطابق آج کل اقوام عالم کے معاملات کو چلایا جا رہا 293