اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 249
نظام کا مختصر اور دوٹوک الفاظ میں ذکر کر دیا گیا ہے۔مومنوں سے کہا گیا ہے کہ غریب اور بے کس افراد یا اقوام کے مصائب اور دکھوں کا ازالہ تو کریں مگر ان کی بے بسی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی آزادی سلب نہ کریں یتیم کا لفظ وسیع تر معنوں میں استعمال ہوا ہے اس کا اطلاق ان افراد یا قوموں پر بھی ہوتا ہے جن کا سارا انحصار دوسروں کی مدد پر ہے۔ایسی قوموں کی مثال ان یتیموں کی طرح ہے جن کے امیر رشتہ داروں نے ان سے قطع تعلق کر لیا ہو۔پس انہیں اس امید پر بے یارو مددگار نہیں چھوڑ دینا چاہئے کہ شاید ان کے رشتہ دار جن پر ان کی امداد کی اصل ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان کی مدد کے لئے آگے آئیں۔تیل کی دولت سے مالا مال ممالک اس کی بہترین مثال ہیں۔اگر صرف خلیج ہی کی چند ایک ریاستیں مل کر بنی نوع انسان کے مصائب کو کم کرنے کی کوشش کرتیں تو وہ براعظم افریقہ میں بھوک اور قحط کا مسئلہ حل کر سکتی تھیں جب کہ ان کے اپنے خزانوں میں اس سے ذرہ بھی کمی واقع نہ ہوتی۔بینکوں میں موجود دولت کے پہاڑوں سے انہیں جو سود ملتا ہے اور مغربی ممالک میں موجود اثاثوں سے انہیں جو آمد ہوتی ہے سرزمین افریقہ کے دکھوں اور مصائب کو کم کرنے کے لئے وہی کافی ہے۔یوں بھی سود کی جو رقم یہ ممالک حاصل کرتے ہیں اسے اپنے استعمال میں نہیں لا سکتے کیونکہ اسلام انہیں ایسا کرنے سے روکتا ہے۔اسی طرح بنگلہ دیش میں طرح طرح کی آفات کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے کروڑوں غریب اور بھوکے افراد بھی ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔اس قوم کو ساری دنیا نے اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور اگر کچھ امداد ان تک پہنچتی بھی ہے تو وہ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لئے بالکل نا کافی ہے۔یہ وہ قومیں ہیں جنہیں یتیم سمجھا جانا چاہئے کیونکہ یتیم کا لفظ اپنے وسیع تر معنوں میں ان پر یقیناً اطلاق پاتا ہے۔اگر ایسی اقوام کو ان کے قریبی رشتہ دار بھی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں تو 249