اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 326

اسلام اور عصر حاضر کے مسائل کا حل — Page 250

اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ کوتا ہی ایک سنگین جرم قرار پائے گی۔غریب قوموں کے مصائب کے لئے اللہ تعالیٰ یا قدرت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اس قسم کی سوچ نادانی اور کج فہمی پر مبنی ہو گی۔دراصل انسان خود اس بے رحمی اور بے حسی کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔اگر ہم انسانوں کے دلوں میں دوسروں کی خاطر دکھ اٹھانے کا جذبہ بھر دیں تو آج بھی یہ دنیا جنت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔عالم اسلام سے باہر کی دنیا میں بھی ہر جگہ ایسی خود غرضی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔مثلاً اگر ایتھوپیا کے سوویت یونین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو اوروں کے لئے اس کی مدد نہ کرنے کا یہ بہانہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ تمام تر سوویت یونین کی ذمہ داری ہے۔اگر مسلمان ملک سوڈان میں کروڑوں لوگ بھوکے مر رہے ہیں تو ان کی اس قابل رحم حالت سے یہ کہہ کر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں کہ ان کو کھلانے پلانے کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوتی ہے یا تیل کی دولت سے مالا مال دیگر مسلمان ممالک پر ہے کیونکہ وہی سوڈان کے قریبی اور دوست ممالک ہیں۔يَتِيمًا ذَاسَفْرَبَةِ کے لفظی معنی ایسے یتیم کے ہیں جو نزد یکی رشتہ دار ہو۔اس آیت میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ مالی مشکلات میں مبتلا افراد یا قوموں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دینی چاہئے۔تیسری دنیا کے اکثر ممالک میں ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ ان کی معیشت بر وقت اور بڑے پیمانہ پر امداد نہ ملنے کی وجہ سے تیزی سے تباہی کا شکار ہو رہی ہے۔قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق مدد کی تیسری ممکنہ صورت أَوْ مِسْكِينَا ذَا مشربَةِ کا اطلاق ایسی معیشت پر ہوتا ہے جو بالکل تباہ ہو چکی ہو اور اقتصادی نظام کی پوری عمارت ہی پیوند خاک ہو چکی ہو۔قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ایسے ممالک کے لوگوں کا پیٹ بھر دینا ہی کافی نہیں ہے بنی نوع انسان کی یہ بھی ذمہ 250