احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 35 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 35

اکثر کیا جاتا ہے کہ احرار کی کاوشوں کے نتیجہ میں علامہ اقبال جماعت احمدیہ کے خلاف ہو گئے اور انہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف تحریری کاوشیں شروع کیں لیکن اُس وقت علامہ اقبال کی مخالفت کا دائرہ صرف احمدیت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس سے قبل خود بانی پاکستان محمد علی جناح اور دوسرے مسلمان لیڈروں کا موقف بھی علامہ اقبال کی مخالفت کا نشانہ بنا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ 7 ستمبر 1931ء سے یکم دسمبر 1931ء تک لندن میں ہندوستان کے مستقبل کے آئین کے بارے میں دوسری راونڈ ٹیبل کانفرنس منعقد ہوئی۔اس میں مسلمانوں کی طرف سے نمائندہ مندوبین میں قائد اعظم محمد علی جناح ، علامہ اقبال، حضرت چوہدری ظفر اللہ خان ، مولانا شوکت علی ،سر شفیع ، آغا خان سوئم بھی شامل تھے۔پہلے کمیٹیوں نے کام شروع کیا۔Federal Structure کمیٹی اور اقلیتوں کے بارے میں کمیٹی اہم تھیں۔علامہ اقبال اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مولانا شوکت علی اور آغا خان اقلیتوں کی کمیٹی کے رکن تھے۔اور Federal Structure کمیٹی میں دوسرے مندوبین کے علاوہ قائد اعظم اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بھی شامل تھے۔کانفرنس کے پہلے روز 7 ستمبر کو Federal Structure کی کمیٹی میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ایک طویل تقریر میں اعلان کیا کہ وہ گزشتہ کا نفرنس میں محمد علی جناح اور سر شفیع کی طرف سے اس خیال کا اظہار کیا گیا تھا کہ ہندوستان کے لئے کوئی آئین اُس وقت تک کام نہیں کر سکتا جب تک مسلمان اور ہندوؤں کے درمیان اس مسئلہ پر اتفاق نہیں ہو جاتا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے کہا کہ وہ اس نظریہ کی تائید کرتے ہیں اور اس بات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان کسی ایسے آئین کی تائید نہیں کر سکتے جس میں ان کے مطالبات کو مناسب طریق پر تسلیم نہ کیا گیا ہو۔اس لئے سب کومل کر پیش رفت کی کوشش کرنی چاہیے۔35