احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 34 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 34

ابوالکلام آزاد صاحب کے سپرد ہوا۔انہوں نے احرار لیڈروں سے ملاقات کر کے انہیں آمادہ کیا کہ وہ کشمیر کی مہم کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔اور احرار نے مولوی انور کاشمیری کی وساطت سے علامہ اقبال کو بھڑ کا یا کہ وہ کشمیر کمیٹی میں امام جماعت احمدیہ کی مخالفت کریں اور اسی طرح بعض اور احرار لیڈر بھی علامہ اقبال سے مل کر انہیں خاص طور پر احمدیت کے خلاف بھڑکاتے رہے۔اور اس طرح کشمیر کمیٹی میں رخنہ ڈالنے کا عمل شروع کیا گیا اور احمدیوں کے خلاف مہم شروع کر دی گئی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب کشمیر کمیٹی کے وفد نے مہاراجہ کشمیر سے ملاقات کا وقت مانگا تو مہاراجہ کشمیر نے ملاقات سے انکار کر دیا اور جب مجلس احرار کا وفد کشمیر گیا تو مہاراجہ نے انہیں اپنے ہاں ایک محل میں مہمان ٹھہرایا۔گورنر جموں نے بھی احراری وفد سے ملاقات کی جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ لوگ تو مہا راجہ کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہور ہے ہیں تو یہ خبر عام گردش کرنے لگی کہ احراریوں نے تحریک کو نا کام کرنے کے لئے مہاراجہ سے رشوت لی ہے اور ایک احراری لیڈر نے یہ بیان بھی داغ دیا کہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے بیان میں مبالغہ کیا گیا ہے۔(Iqbal and the politics of Punjab1926-1938, by Khurram Mahmood, published by, National Book Foundation 2010, p 91-97) (Political Islam in Colonial Punjab Majlis-i-Ahrar 1929-1949, by Samina Awan, by Oxford University Press 2010, p 40-48) راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں علامہ اقبال کی خاموشی اور قائد اعظم کے موقف کے خلاف تقریر یہاں علامہ اقبال کے حوالے سے ایک اہم بات کا ذکر ضروری ہے۔اس بات کا ذکر تو 34