احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 36 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 36

جب کا رروائی آگے بڑھی تو گاندھی جی نے علیحدہ اجلاس میں مسلمان مندوبین سے اس عذر کی بنا پر مذاکرات سے انکار کر دیا کہ ڈاکٹر انصاری لندن میں موجود نہیں ہیں اور وہ ڈاکٹر انصاری کی رضامندی کے بغیر کوئی تصفیہ نہیں کر سکتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ 26 نومبر 1931ء کو قائدِ اعظم محمد علی جناح نے تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مسلمان مندوبین کی طرف سے یہ اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت دونوں میں ایک ساتھ خود مختاری دینی چاہیے۔اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان آزادی کی طرف کسی پیش رفت کے راستے میں حائل نہیں ہوں گے۔ہم تمام تر کوشش کر چکے ہیں لیکن مسلمانوں اور ہندوؤں میں اتفاق نہیں ہو سکا۔اور فی الحال کسی پیش رفت کی امید نظر نہیں آ رہی۔آخر یہ مذاکرات ناکامی پر ختم ہوئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ علامہ اقبال نے کمیٹی کے اجلاس میں اور پھر کا نفرنس کی کارروائی میں ایک لفظ بھی نہیں کہا اور نہ مسلمانوں کے مفادات کے لئے کوئی آواز اُٹھائی۔وہ معنی خیز انداز میں مکمل طور پر خاموش رہے۔اس کا نفرنس میں مسلمانوں کے حقوق کے لئے خاص طور پر قائد اعظم ، چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور سرشفیع آواز اُٹھاتے رہے۔علامہ اقبال کا دوسرے تمام مسلمان مندوبین سے اختلاف بھی ہو گیا اور اختلاف اتنا شدید ہوا کہ علامہ اقبال ایک لفظ بولے بغیر ہی اس کا نفرنس سے مستعفی ہو گئے۔(Indian Round Table Conference[second session [ Proceedings of the Federal Structure Committee and Minorities Committee Vol 1۔P31-35) (Indian Round Table Conference[second session [ Proceedings of the Federal Structure Committee and Minorities Committee Vol 2۔p 1211-1215) زنده رود مصنفہ جا وید اقبال صاحب، ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور 2008 صفحہ 504) 36