احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 55 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 55

ان فسادات کے بارے میں درج باتوں پر تبصرہ پیش کیا جارہا ہے۔سب سے پہلے تو یہ تجزیہ ضروری ہے کہ پاکستان بنتے ہی جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات شروع کرانے کی وجہ کیا تھی؟ یہ وجہ جاننے کے لئے ان فسادات کو شروع کرنے والوں کے عزائم اور نفسیات کو جاننا ضروری ہے۔ہم صرف مجلس احرار اور جماعت اسلامی کا تجزیہ پیش کریں گے۔اس شورش کو سب سے پہلے احرار نے ہوا دی۔اگر چہ احرار دعوی کرتے تھے کہ وہ مذہبی مقاصد رکھتے ہیں لیکن وہ مذہب کا نام صرف سیاست کی دوکان چمکانے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ان کا عقیدہ تھا کہ سیاسی رسوخ حاصل کرنا ہی اصل مذہبی مقصد ہے۔یہ پوچ نظریہ اُن کے ذہنوں میں بری طرح رچ بس گیا تھا۔1939ء کی آل انڈیا احرار کا نفرنس کے خطبہ صدارت میں افضل حق صاحب نے یہ پالیسی ان الفاظ میں بیان کی۔احرار اس یقین پر قائم ہیں کہ نیکی بغیر قوت کے زندہ نہیں رہ سکتی۔مذہب صرف اس کا زندہ ہے جس کی سیاست زندہ ہے۔اگر چہ بعض تبلیغی اور اصلاحی امور بھی احرار سے متعلق ہیں۔تاہم سیاسی قوت حاصل کرنا ہمارا نصب العین ہے جس کے بغیر ہر اصلاحی تحریک تضیع اوقات ہے۔‘“ ( خطبات احرار جلد اول، مرتبه شورش کا شمیری، مکتبہ احرار لا ہور، مارچ 1944 ء صفحہ 17، 18) اور جماعت اسلامی بنانے کا مقصد مودودی صاحب کے الفاظ میں یہ تھا: جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود دنیا میں حکومت الہیہ کا قیام اور آخرت میں رضائے الہی کا حصول ہے۔“ ( مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم ، مصنفہ ابوالاعلی مودودی صاحب صفحہ 173, 174) اس کتاب کا ایک بڑا حصہ اس بحث سے بھرا ہوا ہے کہ یہ حکومت الہیہ صرف ایک 55