احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 56 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 56

صالح جماعت قائم کر سکتی ہے۔چونکہ ایسی جماعت کوئی موجود نہیں اس لئے جماعت اسلامی کو قائم کیا جا رہا ہے تا کہ وہ حکومت حاصل کر سکے اور حکومت الہیہ قائم کر سکے۔اس مضمون کو جسٹس شوکت عزیز صاحب بخوبی سمجھتے ہوں گے کیونکہ وہ خود ایک مرتبہ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑچکے ہیں گو کہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔اس پس منظر میں یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان جماعتوں کی تشکیل اسی بنیاد پر ہوئی تھی کہ وہ کسی طرح سیاسی اقتدار حاصل کریں اور اپنا پروگرام پورا کرسکیں۔یہ دونوں جماعتیں اور مولویوں کی بھاری اکثریت آزادی سے قبل پاکستان کے قیام کی مخالفت کر چکے تھے اور اسے پلیدستان، نا پاکستان کا فرستان اور غلامستان کہتے رہے تھے۔جس وجہ سے آزادی کے بعد ان کی سیاسی حیثیت ختم ہوگئی تھی اور احرار نے تو سیاسی امور سے کنارہ کشی کا اعلان بھی کر دیا تھا اور جماعت اسلامی آزادی کے بعد پنجاب میں ہونے والے الیکشن میں ایک بھی نشست نہیں حاصل کر سکی تھی۔اب انہیں اپنے سیاسی مردے میں جان ڈالنے کے لئے کسی مسئلہ کی ضرورت تھی جس کو بھڑکا کر وہ دوبارہ سیاسی سٹیج پر اپنی جگہ بناسکیں۔اس تمنا کے تحت جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات کی بنیاد ڈالی گئی۔اب ہم اس عدالتی فیصلہ کے اُس حصہ کی طرف آتے ہیں جس میں 1953ء کے فسادات کا ذکر کیا گیا ہے۔افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ اس ذکر کے آغاز میں ہی ایک واضح غلط بیانی کی گئی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صاحب نے اس فیصلہ کے صفحہ 46 پر لکھا ہے " The anti-Ahmadiyya movement took shape in mid-1948 and reached its peak in 1953۔Within a few months time, the ullema of 56