احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 54
کونسل میں ہونے والی بحث کے متعلق لکھتے ہیں : انہوں نے ( یعنی شیخ عبد اللہ نے ) مختلف مواقع پر جو بیانات دیے تھے اور جو تقریریں کی تھیں اور اسی طرح پنڈت نہرو کی تقریروں نے ظفر اللہ کے ہاتھ میں ایسی چھڑی پکڑا دی تھی جس سے وہ ہندوستان کی پٹائی کرتے رہے۔“ (Kashmir Storm center of the world, chapter8, by Bal Raj Madhok) شیخ عبد اللہ صاحب ہندوستان کے وفد میں شامل تھے اور انہوں نے اپنے مؤقف کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھا ہے لیکن چوہدری صاحب کے کامیاب انداز کے متعلق وہ اعتراف کرتے ہیں : پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ چوہدری سر ظفر اللہ خان کر رہے تھے۔مجھے بھی ہندوستان کے وفد میں شامل کیا گیا سر ظفر اللہ ایک ہوشیار بیرسٹر تھے۔انھوں نے بڑی ذہانت اور چالا کی کا مظاہرہ کر کے ہماری محدود سی شکایت کو ایک وسیع مسئلے کا روپ دے دیا اور ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم کے سارے پر آشوب پس منظر کو اس کے ساتھ جوڑ دیا۔ہندوستان پر لازم تھا کہ وہ اپنی شکایت کا دائرہ کشمیر تک محدود رکھتا لیکن وہ سر ظفر اللہ کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کر رہ گیا اور اس طرح یہ معاملہ طول پکڑ گیا۔بحثا بحثی کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ ختم ہونے میں ہی نہ آتا تھا۔ہمارے کان پک گئے اور قافیہ تنگ ہونے لگا۔ہم چلے تو تھے مستغیث بن کر لیکن ایک ملزم کی حیثیت سے کٹہرے میں کھڑے کر دیئے گئے۔آتش چنار، مصنفہ شیخ محمدعبداللہ مطبع جے کے آفسٹ پرنٹرز، جامع مسجد دہلی۔1986 صفحہ 473) 1953ء کے فسادات کا آغاز اس مضمون میں ان فسادات کی تمام تفصیلات درج نہیں کی جارہیں بلکہ اس فیصلہ میں 54