احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 37
علامہ اقبال نے ہندوستان آنے کے چند ماہ کے بعد مارچ 1931ء میں All Indian Muslim Conference کی صدارت کرتے ہوئے قائد اعظم کے اس موقف کو جو آپ نے 26 نومبر 1931ء کو فیڈرل سٹرکچر کی کمیٹی میں پیش کیا تھا اور کسی مسلم مندوب نے اس کی مخالفت نہیں کی تھی ، شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایک سنگین غلطی قرار دیا اور یہ سوال اُٹھایا کہ کیا انہیں ایسا کرنے کا حق بھی تھا کہ نہیں اور یہ الزام لگایا کہ انہوں نے یہ غلطی بعض انگریز سیاستدانوں کے غلط مشورہ کے زیر اثر کی تھی اور اس کی وجہ سے حکومت کو یہ موقع مل گیا کہ اس نے صوبوں کو خود مختار حکومتیں دینے میں تاخیر کر دی ہے اور یہ دعویٰ کیا کہ تمام ہندوستان کے مسلمان اس موقف کو ایک سنگین غلطی سمجھتے ہیں اور حاضرین کا نفرنس کو تحریک کی کہ وہ اس موقف کی مخالفت میں آواز اُٹھا ئیں۔مختصر یہ کہ اس طرح اس نازک موقع پر جب کہ مسلمانوں میں اتحاد ضروری تھا، مسلمان لیڈروں کے درمیان ایسا نا گوار اختلاف سامنے آیا، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی قوت کو نقصان پہنچنا ایک لازمی بات تھی۔( The All India Muslim Conference 1928-1935 ,compiled by K۔K۔Aziz, published by Sange Meel publications p۔88) علامہ اقبال جماعت احمدیہ کے خلاف مہم شروع کرتے ہیں اس مرحلہ کے بعد جماعت احمدیہ کے خلاف یہ نفرت انگیز مہم زور پکڑتی گئی اور علامہ اقبال بھی اس مخالفت میں پیش پیش نظر آنے لگے۔اس کے نتیجہ میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 7 مئی 1933ء کو کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفی دے دیا۔علامہ اقبال کو نیا صدر بنایا گیا۔اس مرحلہ پر علامہ اقبال کا نیا شکوہ سامنے آیا کہ کمیٹی کے احمدی ممبران اپنی قیادت کی پیروی کرتے ہیں اور اس بنا پر علامہ اقبال نے استعفیٰ دیا اور کمیٹی کو ختم کرنے کا 37