احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 82
اتنی بڑی اور کھلم کھلا سازش ہوگئی اور پارلیمنٹ کو علم نہیں ہوا، کا بینہ کوعلم نہیں ہوا اور باقی سرکاری مشینری کو بھی علم نہیں ہوا اور ملک ٹوٹ بھی گیا۔سر براہ حکومت تو اس کمیشن کا صدر ہوتا تھا لیکن اس کمیشن کو چلانے والا عملاً اس کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین ہوتا تھا۔سر براہ حکومت کے بعد اگر کوئی شخص پانچ سالہ منصوبے پر اثر انداز ہوسکتا تھا تو وہ اس کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین ہوسکتا تھا اور چند سال کے لئے ایم ایم احمد بھی اس کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین رہے تھے۔الزام یہ ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر ایسے پانچ سالہ منصوبے بنائے کہ آخر میں ملک ٹوٹ گیا۔جب ہم ملک ٹوٹنے کے سانحہ سے قبل کے بننے والے پانچ سالہ منصوبوں کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی منصوبہ ایم ایم احمد کی نگرانی میں نہیں بنا تھا۔ان میں سے کسی منصوبے کے بنتے وقت آپ پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئر مین نہیں تھے۔پہلے پانچ سالہ منصوبے کو تیار کرنے والے زاہد حسین صاحب تھے جو کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے پہلے گورنر تھے۔اسی طرح دوسرے پانچ سالہ منصو بہ کو بنانے میں آپ کا کوئی کردار نہیں تھا۔اسی طرح تیسرا پانچ سالہ منصوبہ سعید حسن صاحب ڈپٹی چیئر مین پلانگ کمیشن کی نگرانی میں بنا تھا۔اور اس کے مسودہ سے پہلے صدر ایوب اور سعید حسن صاحب کے لکھے ہوئے طویل دیباچے موجود ہیں ، ان میں ایم ایم احمد کا نام تک نہیں ہے۔ہم یہ سمجھ نہیں پار ہے کہ اگر اتنا بڑا سانحہ صرف پانچ سالہ منصوبوں کی وجہ سے ہوا تھا تو پھر اُس وقت کے سر براہان حکومت، زاہد حسین صاحب اور سعید حسن صاحب کو موردِ الزام کیوں نہیں ٹھہرایا جارہا؟ ایم ایم احمد کو الزام کیوں دیا جارہا ہے؟ اوپر درج کی گئی معلومات اس الزام کو غلط ثابت کر دیتی ہیں۔تیرا پنج سالہ منصوبہ 1965-1970 ، از پلاننگ کمیشن حکومت پاکستان۔پیش لفظ و دیباچہ) 82