احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 81
disparity and East-West in resulted planning defective consequently loss of Eastern Wing of the country۔[ The Ahmadiya Movement by Bashir Ahmed M۔A([۔page 49) پیدا ترجمہ: ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فورڈ فاؤنڈیشن اور ہارورڈ مشاورتی گروپ جیسے صیہونی گروہوں کے تعاون سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں اقتصادی عدم توازن برا کرنے کے ذمہ دار تھے۔ان گروہوں نے اقتصادی مشیروں کا ایک سلسلہ پلاننگ کمیشن میں اور صوبائی منصوبہ بندی کے شعبوں میں بھجوایا اور جو ناقص منصوبہ بندی کی گئی اس کے نتیجہ میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان اقتصادی عدم توازن بڑھا اور آخر میں ملک کا مشرقی حصہ علیحدہ ہو گیا۔فیصلہ کے اس حصہ میں افسانوی انداز میں یہ سنسنی پیدا کی گئی ہے کہ ایک نمایاں احمدی کی سازش اور وہ بھی صیہونی گروہوں کے ساتھ کی گئی سازش کی وجہ سے ملک میں اس طرح کی ناقص اقتصادی منصوبہ بندی کی گئی کہ ملک دو ٹکڑے ہو گیا اور دلیل کیا ہے ؟ صرف جماعت احمدیہ کے اشتد ترین مخالف کی کتاب کا حوالہ دیا جارہا ہے جو کہ لکھی ہی جماعت احمد یہ کی مخالفت کے لئے گئی تھی اور اس کتاب میں کیا دلیل پیش کی گئی ؟ اس کتاب میں اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں پیش کی گئی۔بہر حال ہم اس الزام کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔اول تو یہ کہ خواہ وہ سیکرٹری خزانہ ہو یا منصو به بندی کمیشن کا ڈپٹی چیئر مین ہو وہ اکیلا اتنے بڑے اقدامات اُٹھا ہی نہیں سکتا کہ اپنی مرضی کا پانچ سالہ منصوبہ بنادے یا ملک کے تمام اقتصادی اور دیگر معاملات کو بیرونی عناصر کے ساتھ سازش کر کے اتنا بگاڑ دے کہ ملک تقسیم ہو جائے اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔81