احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 83
ایم ایم احمد کے بارے میں بنگلہ دیش کے پہلے وزیر قانون کی گواہی کسی سیاسی بحث سے احتراز کرتے ہوئے یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ اُس وقت پاکستان کے دولخت ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ ہوا تھا کہ انتخابات میں جیت کے بعد منتخب نمائندوں کو یعنی مشرقی پاکستان میں بھاری اکثریت حاصل کرنے والی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل نہیں ہو سکا تھا۔اور مرکزی نکتہ یہ تھا کہ عوامی لیگ کے چھ نکات پر مغربی پاکستان کے نمائندوں ، عوامی لیگ اور اُس وقت کی حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔اور مشرقی پاکستان کے نمائندوں کو یہ شکوہ تھا کہ باوجود اس کے کہ وہ الیکشن میں اکثریت حاصل کر چکے تھے ان کے ساتھ مذاکرات میں مفاہمت کا رویہ نہیں دکھایا گیا اور آخر میں جب ملٹری آپریشن شروع ہوا تو مفاہمت کے راستے بند ہو گئے۔بدقسمتی سے یہ دوریاں اتنی بڑھیں کہ آخر میں ملک کے دوٹکڑے ہو گئے۔بنگلہ دیش کے پہلے وزیر قانون اور بنگلہ دیش کا آئین مرتب کرنے والے کمیشن کے چیئر مین کمال حسین صاحب نے ان حالات پر ایک کتاب تحریر فرمائی ہے۔وہ خودان مذاکرات میں شامل تھے۔انہوں نے ان مذاکرات کا تجزیہ پیش فرمایا ہے اور یہ مذاکرات تقریباً تین ماہ وقفے وقفے سے چلے تھے اور کچھ مالی نکات ایسے تھے جس وجہ سے مفاہمت ہونے کے راستے بند نظر آرہے تھے۔ان مذاکرات میں صرف ایک روز یعنی 23 مارچ 1971 ء کے لئے ایم ایم احمد مالی معاملات کے بارے میں عوامی لیگ کے نمائندوں سے مذاکرات کرنے کے لئے شامل ہوئے تھے اور خود کمال حسین صاحب تحریر کرتے ہیں کہ اس روز مذاکرات میں پیش رفت ہورہی تھی اور ایم ایم احمد لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔وہ لکھتے ہیں۔"Indeed M۔M۔Ahmed started by saying that he thought that 83