احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 22
ہائی کورٹ کے فیصلہ اور سنت نبوی میں تضاد کی ایک مثال ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں کہ اس فیصلہ اور سنت نبوی سلایا تم میں کس قدر تضاد موجود ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ میں اس بات پر بہت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اور تو اور احمدیوں کے نام بھی مسلمانوں جیسے ہیں اور یہ بات دوسری آئینی ترمیم پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے اور عدالتی فیصلہ میں اس کا حل یہ تجویز کیا گیا ہے "Qadianis should not be allowed to conceal their identity by having similar names to those of Mulsims,, therefore, they should be either stopped from using name of ordinary muslims or in the alternative Qadiani, Ghulam-e-Mirza or Mirzai must form a partof (page 165&166) their names and be mentioned accordingly۔" ترجمہ: قادیانیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی شناخت کو مسلمانوں جیسے نام رکھ کر پوشیدہ رکھیں۔لہذا یا تو انہیں عام مسلمانوں جیسے نام رکھنے سے روکا جائے یا متبادل قادیانی ناموں مثال کے طور پر غلام مرزا یا مرزائی کو ان کے ناموں کا حصہ بنایا جائے۔عدالتی فیصلہ کا یہ حصہ پڑھ کر کسی دلیل کی بجائے پہلے غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے۔حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں کیا اس سوچ کا اسلام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کوئی دور کا بھی تعلق ہے؟ اس فیصلہ میں جسٹس شوکت عزیز صاحب تسلیم کر چکے ہیں کہ ہمیشہ کے لئے سنت رسول کی پیروی لازمی ہے۔کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست قائم فرمائی تو اُس وقت کیا کسی بھی گروہ پر کوئی بھی پابندی تھی کہ وہ مسلمانوں جیسے نام نہیں رکھ سکتے ؟ اُس دور میں مدینہ کے نمایاں یہود کے چند نام ملاحظہ ہوں۔22