احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 21
مقرر ہوتے تھے اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقرر فرماتے تھے۔کیا کوئی ایک حدیث بھی پیش کی جاسکتی ہے کہ ان عمال کو تقرری سے قبل ان لغو مراحل سے گزارا جاتا ہو؟ میثاق مدینہ کا حوالہ جیسا کہ حوالہ درج کیا گیا ہے کہ اس فیصلہ میں مردم شماری کے ذکر کے بعد میثاق مدینہ کا ذکر کیا گیا ہے۔اس بارے میں عدالتی فیصلہ کی عبارت پڑھتے ہوئے ایک بار پھر ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ لکھنے والے نے اصل تاریخی روایات کو خود نہیں پڑھا بلکہ اسے کہیں سے کچھ مواد مہیا کیا گیا ہے۔اور اس مہیا کردہ مواد کو عجلت میں اس عدالتی فیصلہ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔یہ معاہدہ تو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے مہاجروں ، مدینہ کے انصار کے قبائل اور مدینہ کے یہود کے درمیان ہوا تھا۔نہ جانے اس عدالتی فیصلہ میں فارس کے لوگوں کو اس معاہدہ میں کس طرح شریک قرار دے دیا گیا ہے؟ اس کی وضاحت تو پاکستان کی معزز عدالت ہی کر سکتی ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس معاہدہ میں ہر کوئی اپنے علیحدہ علیحدہ مذہبی تشخص کے ساتھ شامل ہوا تھا۔یقیناً میثاق مدینہ میں مذہبی آزادی کی مکمل ضمانت دی گئی تھی اور یہ لکھا گیا تھا کہ مسلمانوں کے لئے مسلمانوں کا دین ہے اور یہود کے لئے یہود کا دین ہے لیکن اس میثاق میں ایسا کوئی نکتہ موجود نہیں جو کہ اس عدالتی فیصلہ یا کسی قسم کی تنگ نظری کا جواز بن سکے بلکہ میثاق مدینہ میں موجود مذہبی رواداری کی ایک مثال ملاحظہ کریں۔اس معاہدہ کی ایک شق یہ تھی کہ بنی عوف کے یہود بھی مسلمانوں میں شمار کئے جائیں گے اور پھر لکھا ہے کہ بنی نجار، بنی حرث، بنی جشم ، بنی تعلیہ، بنی اوس اور بنی شطنہ کے یہود کے لئے بھی وہی ہے جو کہ بنی عوف کے یہود کے لئے ہے۔(سیرت ابن ہشام۔اردو تر جمه از سید یسین علی حسنی، ناشر ادارہ اسلامیات مئی 1964 صفحہ 393 تا395) 21