احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 20 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 20

حدیث میں اس مردم شماری کا ذکر ہے۔جب ہم اس حدیث کو پڑھتے ہیں تو ایک بار پھر اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جج صاحب نے خود یہ حدیث نہیں پڑھی بلکہ انہیں کہیں سے مواد مہیا کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر انہوں نے یہ فیصلہ تحریر کیا ہے کیونکہ صحیح بخاری کی حدیث میں عورتوں اور بچوں کا ذکر نہیں بلکہ صرف مردوں کی تعداد لکھنے کا ذکر ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس حدیث کا متن ان نظریات کی مکمل تردید کرتا ہے جو کہ اس فیصلہ میں پیش کئے گئے ہیں۔اس عدالتی فیصلہ میں حکومت پر یہ زور دیا گیا ہے کہ حکومتی ریکارڈ میں کسی کو مسلمان درج کرنے سے قبل اچھی طرح اس کے عقائد کی چھان پھٹک کرنی چاہیے۔اس سے حلف اُٹھوانا چاہیے اور سرکاری ملازم رکھنے سے قبل تو علماء اور کسی ماہر نفسیات سے اس کے عقائد کا خوب تجزیہ کروالینا چاہیے اور حکومت کے لئے مناسب ہوگا کہ وہ سائنسی طریقہ دریافت کرے جس سے احمدیوں کی صحیح تعداد کو دریافت کیا جا سکے۔(ملاحظہ کیجئے عدالتی فیصلہ کا صفہ نمبر 167,20) اس کے برعکس جب ہم اس حدیث نبوی کو پڑھتے ہیں تو اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ملتا ہے۔اكْتَبُوا لِي مَنْ تَلَفَظَ بِاالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ۔یعنی لوگوں میں سے جو اسلام کا اقرار کرتا ہے اس کا نام مسلمانوں میں درج کرو۔اس ارشاد نبوی میں کہیں یہ ذکر موجود نہیں کہ اس کے عقائد کی چھان بین کرو یا کرید کرید کر اس کے عقائد کی تفاصیل معلوم کرو۔واضح ارشاد یہ ہے کہ جو اسلام کا اقرار کرتا ہے اس کا نام مسلمانوں میں درج کرو۔شوکت عزیز صاحب تو تجویز کر رہے ہیں کہ سرکاری ملازمت پر رکھنے سے قبل کسی ماہر نفسیات سے بھی عقائد کا تجزیہ کروانا ضروری ہے۔پھر اسے علماء کے حوالے کرو وہ اس کے عقائد کی چھان بین کریں۔آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں بھی تو عمال 20