احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 19 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 19

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہونے والی مردم شماری کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد کی دو اور مثالیں دیتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب تفصیلی فیصلہ میں لکھتے ہیں Even the Holy Prophet (PBUH) after migrating to Madinah conducted the population census so as to ascertain the true numbers of Muslim Males, Females and Children which itself drew a distinction line between the Muslims and non-Muslims۔If one sees the Charter of Madinah and the parties to it whether they were Muslims, Persians or infidels every one entered into it with his separate religious identity۔(page 22&23) ترجمه: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آبادی کی مردم شماری کرائی تھی۔جس میں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی تعداد کا تعین کیا گیا تھا۔اس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تفریق کی گئی تھی۔اگر کوئی میثاق مدینہ کو دیکھے تو اس میں مسلمان فارسی اور کا فراپنے علیحدہ علیحدہ مذہبی تشخص کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ فیصلہ میں کسی حوالے کی معین عبارت درج کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔اور شاید یہ ان کی مجبوری بھی تھی کیونکہ جن تاریخی روایات کا وہ ذکر کر رہے ہیں ، وہ ان کے پیش کردہ نتائج کی تردید کر رہی ہیں۔سب سے پہلے تو اس مردم شماری کا ذکر کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کرائی گئی تھی۔صحیح بخاری کی کتاب الجہاد والسیر کے باب کتابۃ الامام الناس کی 19