احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 13
انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے انہیں کے الفاظ میں درج کیا جائے کہ وہ کیا نتیجہ پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور پھر یہ جائزہ لیا جائے کہ وہ اس نتیجہ کی تائید میں کون سی احادیث پیش کر رہے ہیں۔اپنے فیصلہ میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب تحریر کرتے ہیں: "The learned Amicus Curiae while relying upon the authority of the Sunnah, a primary source of Islamic law and the guidance for the Ummah for all times to come, has emphasized these principles in a number of traditions۔۔۔۔Two examples in this regard have been cited, one is about the false prophet-hood of Muselma Qazzab and the other is Aswad Ansa۔The strict action against both the false claimants is sufficient to establish that there is no room for any false claimant of Prophethood in Islam" (page 16) ترجمه فاضل Amicus Curiae وہ ماہرین جنہیں کسی مقدمہ میں عدالت اپنی اعانت کے لئے طلب کرے) نے سنت نبوی جو کہ ہمیشہ کے لئے اسلامی قانون کے لئے بنیادی ماخذ اور امت کے لئے ہمیشہ کے لئے راہنمائی کی حیثیت رکھتی ہے، پر انحصار کرتے ہوئے ان اصولوں پر زور دیا ہے۔اس ضمن میں دو مثالیں دی گئی ہیں۔ایک تو مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کی ہے اور دوسری مثال اسود عنسی کی ہے۔ان دونوں جھوٹے مدعیان کے خلاف جو سخت قدم اُٹھایا گیا اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام میں کسی جھوٹے مدعی نبوت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ان الفاظ میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے 13