احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 14 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 14

زمانے میں جب کسی شخص نے نبوت کا دعوی کیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی گئی اور جماعت احمدیہ کے مخالفین کی طرف سے اکثر یہی دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اسلامی تعلیم یہی ہے کہ جب کسی قسم کی نبوت کا دعوی سنو تو کسی دلیل یا بحث کی ضرورت نہیں ہے۔اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ فوراً اس کے خلاف جہاد شروع کر دیا جائے۔چنانچہ جب 1974 ء کی قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی تو مولوی عبد الحکیم صاحب نے یہی دلیل پیش کر کے اشتعال دلانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا : ” نیز مسیلمہ کذاب کے علاوہ دوسرے مدعیان نبوت کے ساتھ بھی جہاد کیا گیا اور ہمیشہ کے لئے اہل اسلام کو عملی طور پر یہ تعلیم دی گئی کہ اسلام کی تعلیم یہی ہے۔“ کارروائی سپیشل کمیٹی قومی اسمبلی پاکستان 1974 صفحہ 2391 ) جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے دلائل میں اس ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بطور دلیل پیش کیا ہے اور خود تحریر فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نبوت کا دعویٰ کر چکے تھے لیکن اس کے بعد جو حوالے انہوں نے لکھے ہیں وہ خود ان کے پیش کردہ دلائل کو ر ڈ کر دیتے ہیں۔یقیناً مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا دعویٰ جھوٹا اور اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا۔اس معاملہ میں تو کوئی دو آراء نہیں ہیں اور نہ اس پہلو پر ہم بحث کر رہے ہیں۔اس مرحلہ پر یہ تجزیہ پیش کیا جارہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ان دونوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ہم اس سلسلہ میں حوالوں کے ساتھ حقائق پیش کریں گے۔مسیلمہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اس کے 14