احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 12
تفصیلی فیصلہ میں پاکستان کے احمدیوں کے خلاف امتیازی سلوک کومزید سخت بنانے کے لئے بہت سی تجاویز دی گئی ہیں۔یہ فیصلہ 172 صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں ان امور کا ایک تفصیلی تاریخی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔اس فیصلہ کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ تو قانون دان حضرات پیش کریں گے لیکن ہر ذی شعور کو ان تاریخی امور سے دلچسپی ضرور ہو گی جنہیں اس فیصلہ کی اصل بنیاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔مضامین کے اس سلسلہ میں ہم ان تاریخی تفاصیل کا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے جو کہ اس عدالتی فیصلہ کی زینت بنے ہیں۔اس فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلہ کی بنیا دسنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس سلسلہ میں بعض احادیث کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں۔اس مضمون میں ہم اس دعوے کا تجزیہ پیش کریں گے۔مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کے واقعات اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے جو فیصلہ تحریر فرمایا ہے، اس میں احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دے کر بعض نکات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔اس فیصلہ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی حکومت میں کبھی بھی دعویٰ نبوت کو برداشت نہیں کیا گیا اور جب بھی کسی نے کسی قسم کا دعوی نبوت کیا اس کو سخت ترین سزادی گئی۔ظاہر ہے کہ جب کسی بھی معاملہ میں اسلامی حکومت کی بات ہو رہی ہو تو زمانہ نبوی کی مثال دینا ضروری ہوگا۔12