احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 286
متعصب یہ اعتراض کر دے کہ ختنہ تو ہماری رسم ہے اور اسلام کے ظہور سے بہت قبل یہ رسم ہمارے میں رائج تھی اور ثبوت کے طور پر بائبل کی کتاب ” پیدائش کے باب 17 کی عبارت پیش کرے کہ یہ تو اُس عہد کی نشانی ہے جو خدا نے ہمارے ساتھ اور صرف بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا۔اس لئے اسرائیل میں مسلمانوں پر فوری پابندی لگا دی جائے کہ وہ اپنے بچوں کا ختنہ نہ کریں۔تو کیا کوئی ذی عقل اس فرمائش کو معقول مطالبہ سمجھ سکتا ہے؟ " 66 لفظ مسجد کے استعمال پر وفاقی شرعی عدالت میں بحث جماعت احمدیہ کے مخالف طبقہ کی طرف سے یہ نکتہ بار بار اُٹھایا جاتا ہے اور عوام الناس کو یہ کہہ کر اشتعال دلایا جاتا ہے کہ احمدی شعائر اسلام کو استعمال کر کے ان کی تو ہین کر رہے ہیں اور گویا اس طرح نعوذ باللہ اسلام کی تو ہین کے مرتکب ہو رہے ہیں اور جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلے سناتے ہوئے بہت سی عدالتوں نے بھی اپنے تفصیلی فیصلوں میں اس بارہ میں بہت کچھ لکھا ہے۔تعصب کی فضا خواہ کتنی ہی زہر آلود کیوں نہ ہو، کوئی انصاف سے بات سننے کے لئے تیار ہو یا نہ ہو جماعت احمدیہ کی طرف سے ہمیشہ یہی کوشش کی گئی ہے کہ سچی بات اور درست مؤقف متعلقہ اشخاص، متعلقہ اداروں اور عوام الناس تک پہنچا کر فیصلہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔جہاں تک شعائر اسلام کے استعمال کا تعلق ہے اس پہلو سے جماعت احمدیہ پر سب سے زہر یلا وار جنرل ضیاء صاحب کا جاری کردہ آرڈیننس 20 تھا۔اس وقت بھی یعنی 1984ء میں جماعت احمدیہ کے چند احباب نے اسے شرعی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ان احباب میں سر فہرست مکرم مجیب الرحمن ایڈووکیٹ تھے جنہوں نے عدالت کے روبرو دلائل دیئے تھے۔ان کے علاوہ اس مقدمہ کے سائلین میں مکرم مبشر لطیف صاحب ایڈووکیٹ، 286