احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 287
مکرم مرزا انصیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اور مکرم حافظ مظفر احمد صاحب بھی شامل تھے۔مزید برآں علماء کی ایک ٹیم جس میں مکرم و محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب ، مولانا جلال الدین قمر صاحب، مولانا محمد صدیق صاحب، مکرم شمس الحق صاحب، مکرم ملک مبارک احمد صاحب، مکرم نصیر احمد قمر صاحب اور مولا نا مبشر احمد کا ہلوں صاحب شامل تھے اس مقدمہ کی تیاری میں مدد کر رہی تھی۔جنرل ضیاء صاحب کے آڑ دینس کے حوالے سے اس عدالت کے روبرو شعائر اللہ یا شعائر اسلامی کے استعمال کے مسئلہ پر بھی بحث ہوئی۔فیصلہ تو جو ہونا تھا وہ ہوالیکن کم از کم مختصر طور پر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس موقع پر ان احمدی احباب کی طرف سے کیا دلائل پیش کئے گئے؟ پڑھنے والے خود ہی ان کے بارے میں اپنی آزادانہ رائے قائم کر سکتے ہیں۔اس بارہ میں مکرم مجیب الرحمن صاحب کی کتاب امتناع قادیانیت آرڈینس 1984ء وفاقی شرعی عدالت شائع ہو چکی ہے۔دلچسپی رکھنے والے تفصیلات اس کتاب میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔دلائل از روئے قرآن کریم جب عدالت میں بحث شروع ہوئی اور مکرم مجیب الرحمن صاحب نے اس بارے میں دلائل کو آگے بڑھانا شروع کیا تو شریعت کورٹ کے جج صاحبان میں سے جسٹس عبد القدوس قاسمی صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ کیا مسلمانوں کے شعائر غیر مسلموں کے ساتھ مشترک ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب مجیب الرحمن صاحب نے یہ دیا کہ ہو سکتے ہیں۔مثلاً داڑھی رکھنا اور ختنہ کرانا یہودیوں کے شعار میں بھی شامل ہے اور مسلمانوں کے شعار میں بھی شامل ہے۔اس پر ایک اور حج مولوی غلام علی صاحب نے یہ نکتہ اٹھایا کہ اگر کوئی جعلی کرنسی چھاپ دے 287