احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 258 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 258

اس تجزیہ کے ساتھ وہ لکھتے ہیں : و بعض مسائل شریعت میں کچھ ہوتے ہیں مگر ہم لوگ قرآن وسنت کا مطالعہ نہ کرنے کی بناء پر ان کو کچھ اور ہی بنادیتے ہیں اور اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔نیز اپنی اس روش پر ناز کرتے ہیں اور کوئی دوسرا خلوص نیت سے ہماری غلطی دلیل کے ساتھ واضح بھی کر دے تو اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں۔علماء کہلانے والوں کی یہ روش بڑی تکلیف دہ ہے۔صلوۃ وسلام“ اور ترضی و ترحم ( رضی اللہ عنہ اور رحمتہ اللہ ) کہنا بھی ان مسائل میں شامل ہے جن کو نادانی سے اختلافی بنادیا گیا ہے اور صورت حال یہاں تک جا پہنچی ہے کہ علماء کہلانے والے بزرگ اس بناء پر تکفیر تفسیق تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ ایک بیماری ہے اس کا علاج صرف علم کی روشنی ہے۔علم جوں جوں بڑھے گا، قرآن وسنت کا جوں جوں مطالعہ کرنے کی ہمیں عادت پڑے گی جہالت ختم ہوگی اور اختلاف معدوم ہو جائے گا۔“ پھر وہ لکھتے ہیں : الہذا اس پر سر پھٹول اور دنگا فساد، امت میں انتشار وافتراق بہت نامناسب، کم علمی، کوتاہ بینی اور فی سبیل اللہ فساد ہے۔“ (https//www۔thefatwa۔com/urdu/questionID/1419۔/Accessed on 16۔10۔2018) اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ کیا عملی طور پر کبھی کسی ایسے شخص کے لئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی نہ ہو رضی اللہ عنہ کی اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے کہ نہیں؟ اس کے جواب میں اب ہم اسلامی لٹریچر سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں ان احباب کے لئے جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں شامل نہیں تھے رضی اللہ عنہ کے الفاظ استعمال ہوئے 258