احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 257 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 257

ترجمہ: تو کوئی ایسے لوگ نہیں پائے گا جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے ایسے لوگوں سے دوستی کریں جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہوں ،خواہ وہ ان کے باپ دادا ہوں یا ان کے بیٹے ہوں۔یا ان کے بھائی ہوں یا ان کے ہم قبیلہ لوگ ہوں۔یہی وہ ( باغیرت) لوگ ہیں جن کے دل میں اللہ نے ایمان لکھ رکھا ہے اور ان کی وہ اپنے امر سے تائید کرتا ہے۔اور وہ انہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔وہ ان میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے۔یہی اللہ کا گروہ ہے۔خبردار! اللہ ہی کا گروہ جو کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔تو صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف قرآن کریم تو رضی اللہ عنہ کے الفاظ تمام ایمان لانے والوں اور اعمال صالحہ بجالانے والوں اور تمام سیچوں کے لئے استعمال کر رہا ہے اور جنرل ضیاء صاحب کا آرڈینس یہ اعلان کر رہا ہے کہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ الفاظ استعمال نہیں کر سکتے۔اس نامعقول قانون کی رو سے تو اگر کوئی احمدی یہ آیات کریمہ بھی پڑھے تو اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا جا سکتا ہے۔جب عدالت میں یا عدالت سے باہر جماعت احمدیہ کی مخالفت کا وقت آتا ہے تو یہ مولوی حضرات کہتے ہیں کہ ہم یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتے کہ احمدی رضی اللہ عنہ کی اصطلاح صحابہ کے علاوہ کسی کے لئے استعمال کریں۔یہ تو صحابہ کے لئے مخصوص ہے۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اپنے فتاویٰ اس کے خلاف ہیں۔ہم مفتی عبد القیوم ہزاروی صاحب کا ایک فتویٰ نقل کرتے ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود ہے۔اور اس کا لنک بھی درج کیا جارہا ہے تا کہ ہر کوئی اس کو پڑھ کر حقیقت جان سکے۔اس فتویٰ میں انہوں نے لکھا ہے کہ صحابہ کے علاوہ دوسروں کے لئے رضی اللہ عنہ کے الفاظ کا استعمال نہ صرف جائز ہے بلکہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔257