احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 209
ترجمہ: میں یہ جانتا ہوں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے اور یہ نہیں کرنا چاہیے مگر انہیں قانون کی رو سے اختیار حاصل ہے کہ وہ آئین کی شق ہیں اور آٹھ کو منسوخ کر دیں۔حضرت امام جماعت احمدیہ : وہ تو میں نے بھی یہ کہا ہے ناں کہ اس کی سپریم لیجسلیٹو باڈی کی حیثیت ہے۔ان کے اوپر کوئی ایجنسی نہیں ہے جو پابندی لگا سکے لیکن کچھ پابندیاں اس سپریم لیجسلیٹو باڈی نے خود اپنے پر لگائی ہیں۔Yahya Bakhtiar: With that I agree ترجمہ: میں اس سے متفق ہوں۔Yayha Bakhtiar: Those are of ploitical, religious nature, but not of constitutional nature۔ترجمہ: یہ پابندیاں) سیاسی اور مذہبی نوعیت کی ہیں لیکن آئینی نہیں ہیں۔کارروائی سپیشل کمیٹی 1974 صفحہ 36 تا40) سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے مندرجہ بالا حصے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس اہم قانونی اور آئینی سوال کے بارے میں خود اٹارنی جنرل صاحب کا ذہن واضح نہیں تھا۔ایک سے زائد مرتبہ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے نزدیک پاکستان کی پارلیمنٹ کو مکمل اختیار ہے کہ وہ آئین میں جس طرح چاہے تبدیلی کرے۔اس پر کوئی پابندی نہیں ، خواہ یہ پارلیمنٹ آئین میں دیئے گئے تمام بنیادی انسانی حقوق کو ترمیم کر کے منسوخ کر دے اور ایک ایسا آئین بنا دے جس میں کسی قسم کے انسانی حقوق کی کوئی ضمانت نہ دی گئی ہو لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہہ گئے کہ وہ حضرت امام جماعت احمدیہ کے نظریہ سے متفق ہیں کہ پارلیمنٹ نے اپنے اوپر خود یہ پابندی لگائی ہے کہ جن بنیادی انسانی حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے ، ان میں کوئی کمی بھی نہیں کر سکتی۔209