احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 210
مخالفین جماعت کے نظریات اس مسئلہ پر کہ آیا پاکستان کی پارلیمنٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اس قسم کا فیصلہ کرے، مولوی عبدالحکیم صاحب نے جماعت احمدیہ کے موقف کے بارے میں یہ نظریہ پیش کیا: یہی پہلا اور بنیادی فرق ہے جو مرزائیوں اور مسلمانوں میں ہے۔مسلمان اپنے فیصلے صرف قرآن اور شریعت کی روشنی میں کرنا چاہتے ہیں اور اسی کو قانون زندگی کی بنیاد سمجھتے ہیں مگر مرزائی اقوام متحدہ کو دیکھتے ہیں۔کبھی عالمی انجمنوں کو اور کبھی انسان کے بنائے ہوئے دستور اور قانون کو۔ہم تو تمام امور میں صرف دین اور اس کے فیصلے دیکھتے ہیں۔“ ( کارروائی صفحہ 2349) مولوی عبد الحکیم صاحب کا موقف تھا کہ خواہ ایک ترمیم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کے خلاف ہو، خواہ آئین پاکستان میں اس قسم کی ترمیم کرنے پر پابندی ہو، پارلیمنٹ اس لئے اس ترمیم کو منظور کرنے کی مجاز ہے کیونکہ اس کے نزدیک دینی طور پر یہ فیصلہ درست ہے۔تمام تر کارروائی جب اختتام پر پہنچ رہی تھی تو مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے ایک اور نظریہ پیش کیا۔جب 3 ستمبر کو انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کیا تو کہا۔محضر نامے میں دونوں طرف سے اس طرح کے سوال کئے گئے ہیں کہ کیا پاکستان کی نیشنل اسمبلی کو یہ اختیار ہے یا نہیں ہے۔یہ نہایت اہانت آمیز اور اشتعال انگیز سوال ہے۔“ اس آغاز سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ یہ نظریہ پیش کر رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کو بالکل یہ اختیار ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ ایک فرقے یا ایک گروہ کو کس مذہب کی طرف منسوب ہونا چاہیے اور یہ سوال اُٹھانا کہ اسمبلی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ نہیں اسمبلی کی تو ہین ہے۔لیکن پھر چند لمحوں میں ہی انہوں نے نہ صرف اپنے اس بیان کا بلکہ قومی اسمبلی کی تمام 210