احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 159
ہو گیا اور 1986ء میں دہشتگردوں نے با قاعدہ فوج کشی کر کے پارا چنار اور گلگت میں شیعہ حضرات کا قتل عام کیا۔اسی طرح یہ خونی تاریخ پاکستان میں بار بار دہرائی گئی مثلاً بلوچستان میں ہزارہ شیعہ احباب کو بار بار قتل و غارت اور مظالم کا نشانہ بننا پڑا۔(Sectarian War, by Khalid Ahmed, published by Oxford Publishers 2013 p 98,99,202, 207) حقیقت یہ ہے کہ جس ضلع سے 1974ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف فسادات کا آغاز کیا گیا تھا اسی ضلع سے تکفیر کے عمل کو نئے سرے سے وسیع کرنے کے منحوس عمل کا آغاز بھی کیا گیا اور شیعہ احباب کو مرتد اور واجب القتل قرار دے کر ان پر قاتلانہ حملے شروع کرائے گئے۔مجاہد حسین صاحب لکھتے ہیں : اور پنجاب کے وسطی شہر جھنگ میں با اثر شیعہ جاگیرداروں کے خلاف ایک مقامی خطیب مولانا حق نواز جھنگوی نے بعض عقائد کی وجہ سے شیعہ فرقہ کی تکفیر کا نعرہ بلند کر دیا۔اگر چہ برصغیر میں دیو بندی اور اہل حدیث مکاتب فکر کی طرف سے اہل تشیع پر کفر کے فتاویٰ ملتے ہیں جبکہ دیگر مکاتب فکر بھی ایک دوسرے کے بارے میں تکفیر کے فتاویٰ جاری کرتے رہے ہیں لیکن ان فتاوی کی روشنی میں قتل و غارت گری کا بازار کہیں گرم نہیں ہوا تھا۔جھنگ میں فرقہ وارانہ فسادات نے زور پکڑا اور اطراف کے لوگ قتل ہونے لگے۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ 2011ء صفحہ 29) پہلے کفر کے فتوے ، پھر ارتداد اور واجب القتل ہونے کے فتوے۔یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو پھر رکنے میں نہیں آتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے۔اسی کتاب میں پھر مجاہد حسین صاحب لکھتے ہیں۔فرقہ وارانہ جنگ پاکستان میں اپنا رنگ دکھانے لگی اور ایک دوسرے کو قتل کرنے کا سلسلہ 159