احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 158
اسلام میں ارتداد کی سزا کی حقیقت، خطاب حضرت خلیفہ المسح الرابع" 27 جولائی 1986 صفحہ 3) شاید اُس وقت جلد بازی میں یہ اعتراضات کئے گئے ہوں کہ چونکہ اس قانون سے احمدی خطرہ محسوس کر رہے ہیں اس لئے اس مسئلہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے لیکن ہم ایسی کتب کے حوالوں کے ساتھ جن کے مصنفین کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس میدان میں بین الاقوامی طور پر سند مانے جاتے ہیں ، وہ حقائق پیش کریں گے جن سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ انتباہ حرف بحرف پورا ہوا۔اور وقت پر اس سے نصیحت حاصل نہ کرنے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ تمام عالم اسلام نے شدید نقصان اُٹھایا اور اللہ رحم کرے یہ نقصان اب تک جاری ہے۔دوسرے فرقوں کے خلاف فتاوی اور قتل وغارت سب سے پہلے تو یہ غلط فہمی دور ہونی ضروری ہے کہ شدت پسندوں نے اس فتنے کو صرف جماعت احمدیہ کے خلاف استعمال کیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ 1984ء میں جنرل ضیاء نے جماعت احمدیہ کے خلاف آرڈینس نافذ کیا اور اس کے ایک دوسال کے بعد ہی پاکستان میں بہت سے مدرسوں نے اہل تشیع کے کفر کے فتاویٰ دینے شروع کئے اور ان میں وہ مدارس شامل تھے جو جماعت احمدیہ کے خلاف بھی سرگرم رہے تھے۔ان میں دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور جامع اشرفیہ لاہور سر فہرست تھے اور یہ فتویٰ دیا کہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا تک نا جائز ہے۔(Sectarian War, by Khalid Ahmed, published by Oxford Publishers 2013p 90-91) یہ عمل صرف نمایاں مدارس کے فتاویٰ تک محدود نہیں رہا بلکہ جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے انتباہ فرمایا تھا جلد ہی ان کو مرتد قرار دے کر ان کا خون خرا به شروع 158