احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 160
طویل ہوتا گیا۔جھنگ میں سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا حق نواز جھنگوی کے قتل کے بعد فرقہ وارانہ فسادات شدت اختیار کر گئے۔جھنگ کے اہل تشیع جاگیر داروں اور آباد کارسینوں کے درمیان قتل و غارت کا سلسلہ آہستہ آہستہ پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینے لگا۔“ پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین، ناشر سانجھ لاہور مارچ 2011 صفحہ 31) یہ شدت پسندی صرف زبانی کفر کے فتاوی تک محدود نہیں رہی بلکہ پھوٹ ڈالنے کی اس مہم نے ایسا خوفناک رنگ اختیار کیا کہ جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔مجاہد حسین صاحب نے اپنی کتاب میں ایک اشتہار کی نقل شائع کی ہے جو پاکستان میں کھلم کھلا لگا یا گیا۔اس میں ایک شدت پسند تنظیم نے اہل تشیع احباب کو یہ دھمکی دی ہے کہ وہ اسلام کی آڑ میں دین اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اب انہیں ان میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا، یا تو وہ اسلام قبول کر لیں، یا جزیہ دیں، یا یہاں سے ہجرت کر جائیں ورنہ ان کی جائیدادوں اور عبادت گاہوں پر قبضہ کر لیا جائے گا اور ان کی عورتوں کو کنیزیں بنالیا جائے گا اور ان کے بچوں کو غلام بنا کر یا تو مسلمان کر لیا جائے گا یا پھر ان سے بیگا رلیا جائے گا۔پنجابی طالبان، مصنفہ مجاہد حسین، ناشر سانجھ لاہور مارچ 2011 ، صفحہ 101 ) اس دیدہ دلیری سے خوف و ہراس کی فضا قائم کی جا رہی ہے کہ پنجاب کے بعض علاقوں میں اہل تشیع افراد کے گھروں میں ایسے خطوط بھی بھیجے گئے جن میں یہ لکھا گیا تھا کہ وہ کافر ہیں۔یا تو وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں ورنہ ان کے مردوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کو جلایا جائے گا۔ان کی عورتوں کو کنیزیں اور ان کے بچوں کو غلام بنایا جائے گا اور ان کی جائیدادوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔پنجابی طالبان ، مصنفہ مجاہد حسین ، ناشر سانجھ لاہور مارچ 2011 ، صفحہ 103 ) 160