احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 88
پیش رفت رک گئی۔1971ء میں بھارت کی طرف سے اس محاذ پر بھر پور تیاریاں کی گئی تھیں۔اس جنگ میں پاکستان کی 23 ڈویژن کی قیادت احمدی جنرل میجر جنرل افتخار جنجوعہ کر رہے تھے۔انہیں یہ ہدف دیا گیا تھا کہ جنگ کے آغاز میں پیش قدمی کر کے دریائے تو کی کے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیں تا کہ مد مقابل فوج آگے نہ بڑھ سکے۔پہلے انہوں نے سیکٹر کے شمال میں پیش قدمی کی کوشش کی۔کچھ پیش قدمی ہوئی بھی لیکن پھر رک گئی۔اس مرحلہ پر یعنی 7 دسمبر کو انہوں نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے سیکٹر کے جنوب سے حملہ کر کے چھمب اور مناور پر قبضہ کر لیا اور پاکستانی فوج دریا کے مغربی کنارے پر قابض ہو گئی اور دریا سے مغرب کی طرف مدمقابل فوج کی طرف سے مزاحمت ختم ہوگئی۔ان کو جنگ میں حاصل کرنے کے لئے جو اہداف دیئے گئے تھے وہ پورے ہو گئے تھے لیکن اس وقت مد مقابل فوج افرا تفری کا شکار تھی۔اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جنرل جنجوعہ نے اپنی افواج کے کچھ افسران کو دو پہر اڑھائی بجے حکم دیا کہ وہ دریا عبور کر کے دریا سے مشرق کی طرف Pallanwala پر بھی قبضہ کر لیں۔بعض افسران کی طرف سے عذر پیش کیا گیا کہ یہ ممکن نہیں۔اس پر جنرل جنجوعہ نے دوبارہ یہی حکم دیا لیکن پھر عذر پیش کیا گیا کہ وہ بٹالینز جنہوں نے حملہ کرنا ہے locate نہیں ہور ہیں۔اس طرح حملہ میں تاخیر ہوگئی۔جنرل جنجوعہ کے حکم کی فوری تعمیل میں دیر کیوں ہوئی اس بارے میں آغا ہمایوں امین صاحب نے اپنی تحقیق شائع کی ہے جس کا حوالہ درج کیا جا رہا ہے۔پھر 9 دسمبر کی شام کو جنرل افتخار جنجوعہ ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے بعد 23 ڈویژن نے کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ اس دوران اس مقام پر مزید افواج جمع کر کے بھارت نے اپنے دفاع کو مضبوط کر لیا تھا لیکن اس کے باوجود پاکستان کی افواج نے خاطر خواہ علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور اس جنگ میں پاکستانی افواج 88