احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 87 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 87

اس کی وضاحت میں اس سے آگے صدر ایوب مرحوم کی سیاسی غلطیوں کا ذکر ہے جنہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔اگر مقصد یہ تھا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہونے کا ذمہ دار کون تھا تو صحیح نتیجہ شورش صاحب کی کتا ہیں ، یا اللہ وسایا صاحب کی کتاب یا جماعت احمدیہ کے خلاف لکھی گئی وسیم احمد صاحب کی کتاب پڑھ کر نہیں نکالا جاسکتا اور نہ ہی کوئی ذی ہوش اسے درست معیار قرار دے سکتا ہے۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا ذمہ دار کون تھا ؟ عدالت کے لئے مناسب ہوتا کہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی طرف توجہ کرتی۔اس رپورٹ کے آخر میں اس سانحہ کے ذمہ دار افراد کا تعین کیا گیا ہے اور خاص طور پر صفحہ 536 تا 538 پر ان افراد کے نام درج کر کے ان پر بغیر تاخیر کے مقدمات چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ان میں سے ایک بھی احمدی نہیں تھا۔البتہ ایک ہی جنرل تھا جس نے اس جنگ میں فرائض ادا کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی اور وہ جنرل احمدی تھا یعنی میجر جنرل افتخار جنجوعہ شہید۔یہ وہ واحد جنرل ہیں جن کے بارے میں حمود الرحمن کمیشن نے Boldand Capable commander کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور کسی جرنیل کے لئے یہ الفاظ استعمال نہیں کئے گئے۔آپ کے سپر د چھمب کا سیکٹر تھا۔اس سیکٹر کی پاکستان کے لئے یہ اہمیت تھی کہ اگر اس محاذ پر مد مقابل افواج آگے بڑھتیں تو صرف 35-40 میل کے فاصلہ پر جی ٹی روڈ تھی ، اس کو خطرہ ہوسکتا تھا اور یہ خطرہ بہت بڑا خطرہ تھا اور مرالہ بیراج بھی خطرے میں آ سکتا تھا اور یہ بیراج بہت سی دفاعی اہمیت کی حامل نہروں کو سپلائی کرتا تھا۔1965ء کی جنگ میں اس محاذ پر ایک اور احمدی جنرل یعنی لیفٹینٹ جنرل اختر حسین ملک صاحب تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے کہ انہیں دوران جنگ تبدیل کر کے جنرل یحیی خان صاحب کو مقرر کر دیا اور ساری 87