احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 89 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 89

کو کہیں اور اتنی کامیابی نہیں ملی اور دوسرے اکثر محاذوں پر پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔حمود الرحمن کمیشن نے جنرل جنجوعہ شہید کی شاندار الفاظ میں تعریف کرنے کے ساتھ ان کی کارکردگی کا بھی ناقدانہ جائزہ لیا اور یہ رائے دی کہ انہیں صرف اتنے علاقے پر ہی قبضہ کرنا چاہیے تھا جس کا ہدف دیا گیا تھا اور جی ایچ کیو کو چاہیے تھا کہ انہیں مزید پیش رفت سے روکتا۔ہم اس کے عسکری پہلو پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے لیکن اس قسم کے اعتراض صرف مُحب وطن اور بہادر فوجیوں پر ہوتے ہیں۔ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے مخالفین پر اس قسم کا اعتراض کبھی نہیں ہوا ہو گا۔دوسری یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کے بعد جب بھارت کی عسکری تاریخ Indian Army After Independence کے نام سے لکھی گئی تو اس کے مصنف K۔C۔Praval نے جنرل جنجوعہ کے اس فیصلہ کو کہ دریائے توی کے مشرق کی طرف حملہ کر کے Pallanwala پر قبضہ کیا جائے نہ صرف ضروری اور پاکستان کے لئے عمدہ فیصلہ قرار دیا اور چونکہ انہیں پاکستان کی طرف کے حالات کا علم نہیں تھا، اس لئے انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ہماری افواج اس سیکٹر میں افرا تفری کا شکار تھیں، پاکستان نے اسی وقت مزید پیش قدمی کیوں نہیں کی۔اس کتاب کے بعد پاکستان کی طرف سے آغا ہمایوں امین صاحب نے چھمب کے معرکہ پر تحقیق کر کے مقالہ شائع کیا۔ان کے مطابق جنرل افتخار جنجوعہ کی خوبی یہ تھی کہ وہ ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر جنگ کی کمان کرنے کی بجائے محاذ جنگ کے Front پر کھڑے ہو کر کمان کرتے تھے اور یہ طرز برصغیر کی فوجی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کوملتی ہے اور اس معرکے میں ان کے فوجیوں نے بھی غیر معمولی بہادری دکھائی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ اس محاذ پر فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ان کے ماتحت کام کرنے 89