احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 139 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 139

گئے وہ یا تو افغانستان کے تھے یا پاکستان اور کسی حد تک دوسرے مسلمان ممالک کے تھے۔بڑی طاقتوں نے اس جہاد کے لئے از راہ شفقت صرف اسلحہ اور ڈالر عطا کئے تھے۔جب یہ جنگ ختم ہوئی تو تقسیم کیا ہوا اسلحہ اور تیار کئے ہوئے جنگجو پاکستان کے لئے وبال جان بن گئے اور دہشت گردی کا وہ خوفناک سلسلہ شروع ہوا جس کی قیمت پاکستان آج تک ادا کر رہا ہے۔(World Powers Rivalry in Afghanistan and Its Effects on Pakistan by Muhammad Karim۔The Dialogue Vol XII no 3۔p 247-261) جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔واقعی جماعت احمدیہ کسی ایسے ”جہاد“ کا حصہ نہیں رہی جس کو چلانے کے لئے ایڈ (Aid) کے ڈالروں کی اور جس میں نصرت الہی کی خوش خبری دینے کے لئے برززنسکی صاحب کی ضرورت پڑے۔جماعت احمد یہ ایک غریب جماعت ہے۔اس کی تاریخ کا خلاصہ درج ذیل آیت ہے الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران: 174) ترجمہ: ( یعنی ) وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا تمہارے خلاف لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں پس ان سے ڈرو تو اس بات نے ان کو ایمان میں بڑھا دیا۔اور انہوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے۔تاریخی واقعات کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم بارہا یہ منظر دیکھتے ہیں کہ ایک عمل یہ نعرہ لگا کر شروع کیا جاتا ہے کہ قادیانی ”بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں اور اس طرح عالم اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اور بعد میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جماعت کے مخالفین کے اس عمل سے انہی بیرونی طاقتوں کی مدد مقصود تھی جن کے آلہ کار ہونے کا الزام جماعت احمدیہ پر لگایا جا رہا تھا۔یہی صورت ان مدرسوں میں عسکریت کے آغاز کو فروغ 139