احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 138 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 138

دینی مدارس کی تعداد 900 تھی جن میں 30000 طلباء موجود تھے۔جب اس جہاد کا اعلان کیا گیا تو ان مدارس میں تعداد میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوا۔چنانچہ اس موضوع پر اب بہت سے ریسرچ پیپر سامنے آچکے ہیں کہ پاکستان میں ان مدرسوں کا فروغ Operation Cyclone کا حصہ تھا۔یہ وہ آپریشن تھا جو صدر کارٹر کے دور میں ہی افغانستان میں سوویت یونین کے اثر کو روکنے کے لئے بنایا گیا تھا۔پہلے اس کے لئے پانچ سو ملین ڈالر مختص کئے گئے اور بعد میں ایک مرحلہ پر چار ارب ڈالر بھی اس آپریشن کو آگے بڑھانے کے لئے دیئے گئے اور اس کے مقاصد میں ایک یہ بھی تھا کہ پاکستان میں جہادی کلچر کو فروغ دیا جائے اور ان مدرسوں کا قیام اس کا ایک اہم حصہ تھا اور اس کے نتیجہ میں دیکھتے دیکھتے پاکستان میں مدرسوں کی تعداد حیران کن حد تک بڑھ گئی۔بہت سی تحقیقات میں سے ایک کا حوالہ درج کیا جا رہا ہے جو انٹرنیٹ پر موجود ہے اور اس سے ان حقائق کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔(Ali Riaz)۔2005)۔Global jihad, sectarianism and the madrassahs in Pakistan)۔RSIS Working Paper, No۔85)۔Singapore: Nanyang Technological University)۔اور ان مدارس کی سر پرستی وہ عرب ممالک بھی کر رہے تھے جو کہ مغربی طاقتوں کے اتحادی تھے اور افغانستان کی جنگ ختم ہونے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور 2008ء میں ایک تخمینہ کے مطابق ان کی تعداد 45000 تک پہنچ گئی ہے اور ان میں چالیس لاکھ سے زیادہ طلبا تعلیم پارہے ہیں۔جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے مغربی طاقتوں نے تو اپنے اہداف حاصل کر لیے۔افغانستان کو سوویت یونین کا ویتنام بنادیا گیا لیکن اس کے لئے جو لاکھوں لوگ دونوں اطراف سے مارے 138