احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 140
دینے کے معاملے میں نظر آتی ہے۔66 چنانچہ مجاہد حسین صاحب اپنی کتاب ” پنجابی طالبان میں تحریر کرتے ہیں کہ سب سے پہلے پاکستان کے مدرسوں میں عسکری تربیت دینے کا کام 1973ء میں شروع کیا گیا۔اور مسعود علوی صاحب نے ملتان میں ایک تنظیم جمعیت المجاہدین کی بنیا د رکھی اور اس کا سب سے پہلا نشانہ احمدی ہی تھے۔جب مفتی محمود صاحب سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے تحریک ختم نبوت کے راہنما خواجہ محمد احمد خان کے ساتھ کہنیاں میں مدرسوں کے ان طالب علموں کی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ دیکھا۔انہی مسعود علوی صاحب نے اسد کے بعد خالد یہ نام کا مدرسہ قائم کیا جس میں عسکری تربیت لازمی تھی۔افغانستان میں مدرسوں کی طرف سے جو پہلا دستہ بھجوایا گیا وہ مسعود علوی صاحب نے ہی بھجوایا تھا۔اس کے بعد مختلف مدر سے Operation Cyclone کی بھر پورا عانت وخدمت کرتے رہے۔پنجابی طالبان مصنفہ مجاہد حسین صاحب۔ناشر سانجھ مارچ 2011 صفحہ 98-99) اسرائیل اور بڑی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کون کر رہا تھا ؟ جیسا کہ حوالہ درج کیا گیا تھا کہ 1978 ء میں رابطہ عالم اسلامی کی اس قرارداد میں احمدیوں پر صیہونیت سے بھی وابستہ ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔تاریخ کا ہر طالب علم یہ جاننا پسند کرے گا کہ اُس وقت مسلمان ممالک اور اسرائیل میں کیا معاملات چل رہے تھے۔اس کے بعد ہی ہم اس الزام کے بارے میں رائے قائم کر سکیں گے۔یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ان حقائق کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ کسی ملک یا کسی سیاستدان کے فیصلوں پر تنقید کی جائے۔ہر ملک کے قائدین آزاد ہیں وہ جیسا پسند کریں فیصلے کریں اور وہ اس کے بارے میں صرف اپنے ملک کے منتخب نمائندوں اور ملک کے عوام کو جوابدہ ہیں۔یہاں صرف 140