احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 92
کو ثبوت کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔یہ اوٹ پٹانگ الزام کہ 1971 ء میں ملک کے ٹوٹنے کا سانحہ احمدیوں کی سازش کی وجہ سے ہوا 1974ء کی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی میں بھی پیش کیا گیا تھا اور بالکل اسی طرحیہ الزام اٹارنی جنرل یحیی بختیار صاحب نے 7 اگست 1974 ء کو لگایا تھا اور اپنی دلیل کے طور پر ایک انگریزی جریدہ کا طویل حوالہ پڑھنا شروع کیا۔جریدہ کا نام Impact تھا اور یہ 27 جون 1973ء کا حوالہ تھا۔ابھی یہ بھی واضح نہیں ہوا تھا کہ وہ کیا فرمانا چاہ رہے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اس جریدہ کی اس تحریر کے متعلق ان سے استفسار فرمایا Who is the writer“ یعنی اس تحریر کو لکھنے والا کون ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کمال قول سدید سے فرمایا I really do not know یعنی حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے۔حضور نے اگلا سوال یہ فرمایا What is the standing of this publication یعنی اس اشاعت یا جریدہ : کی حیثیت کیا ہے؟ یعنی کیا یہ کوئی معیاری جریدہ ہے یا کوئی غیر معیاری جریدہ ہے۔اس کی حیثیت ایسی ہے بھی کہ نہیں کہ اس کے لکھے کو ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جائے۔چونکہ یہ ایک غیر معروف نام تھا اس لیے اس سوال کی ضرورت پیش آئی۔اس سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے ایک بار پھر نہایت بے نفسی سے فرمایا May be nothing at all Sir یعنی جناب شاید اس کی وقعت کچھ بھی نہیں ہے۔خیر اس کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے دریافت فرمایا Have we anything to do with this یعنی کیا ہمارا اس تحریر سے کوئی تعلق ہے؟ اس کا جواب یہ موصول ہوا Nothing I do not say you have any thing to do۔۔۔۔۔۔یعنی کوئی نہیں ، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔92