احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ

by Other Authors

Page 93 of 338

احمدیوں کے بارہ میں ایک فیصلہ — Page 93

اب یہ ایک عجیب مضحکہ خیز منظر تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان پوری قومی اسمبلی پر مشتمل سپیشل کمیٹی میں ایک جریدہ کی ایک تحریر بطور دلیل کے پیش کر رہا ہے اور اسے ایک جماعت کے غدار ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اسے یہ بھی علم نہیں کہ یہ تحریر لکھی کس کی ہوئی ہے، اسے یہ بھی خبر نہیں کہ اس جریدہ کی کوئی حیثیت بھی ہے کہ نہیں۔(The National Assembly of Pakistan۔Proceedings of the special committee of the whole house held in camera to consider the Qadiani issue۔7th August 1974p 364-367) جس وقت اٹارنی جنرل آف پاکستان نے ان کمزور بیساکھیوں کے سہارے جماعت احمد یہ پر یہ الزام لگانے کی کوشش کی ، اُس وقت حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ حکومت کے پاس آچکی تھی اور ظاہر ہے اس رپورٹ میں جماعت احمدیہ کو اس سانحہ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔اس رپورٹ میں ان لوگوں کی فہرست دی گئی تھی جو کہ اس سانحے کے ذمہ دار تھے اور یہ سفارش کی تھی کہ ان پر فوری طور پر مقدمہ چلایا جائے۔حکومت نے یہ رپورٹ خفیہ رکھی اور بجائے اس کے کہ ان افراد پر مقدمات چلائے جائیں، ان میں سے ایک کو ترقی دے کر فوج کا سر براہ مقرر کر دیا اور قومی اسمبلی میں اس نا معقول انداز میں یہ الزام جماعت احمدیہ پر لگانے کی کوشش کی۔ایسے موقعوں پر Plato کی Republic میں درج ایک مباحثہ میں Thrasymachus کا یہ قول یاد آ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک: Justice is nothing else than the interest of the stronger انصاف طاقتور کے مفادات کے تحفظ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔93