اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 72

واقعات سے ثابت ہے۔صحابہ اور دیگر اہل مدینہ ان لوگوں سے سخت بیزار تھے۔پس ان کی دلیری کا یہ باعث تو نہیں ہوسکتا کہ وہ لوگ ان سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کرتے تھے ان کی دلیری کا اصل باعث اول تو حضرت عثمان کا رحم تھا۔یہ لوگ سمجھتے تھے کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو فھو المراد۔اور اگر ناکام رہے تو حضرت عثمان سے درخواست رحم کر کے سزا سے بچ جائیں گے۔دوسرے گو صحابہ اور اہل مدینہ کا طریق عمل یہ پچھلی دفعہ دیکھ چکے تھے۔اور ان کو معلوم تھا کہ حضرت عثمان کو ہماری آمد کا علم ہے مگر یہ لوگ خیال کرتے تھے کہ حضرت عثمان اپنے علم کے باعث ان کے خلاف لڑنے کے لئے کوئی لشکر نہیں جمع کریں گے اور صحابہ ہمارا مقابلہ نہیں کریں گے۔کیونکہ یہ لوگ اپنے نفس پر قیاس کر کے سمجھتے تھے کہ صحابہ ظاہر میں حضرت عثمان سے اخلاص کا اظہار کرتے ہیں ورنہ اصل میں ان کی ہلاکت کو پسند کرتے ہیں۔اور اس خیال کی یہ وجہ تھی کہ یہ لوگ یہی ظاہر کیا کرتے تھے کہ صحابہ کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہی ہم سب کچھ کر رہے ہیں۔پس ان کو خیال تھا کہ صحابہ ہمارے اس فریب سے متاثر ہیں اور دل میں ہمیں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔مفسدوں کا مدینہ میں پہنچنا رض جونہی اس لشکر کے مدینہ کے قریب پہنچنے کی اطلاع ملی صحابہ اور اہل مدینہ جو اردگرد میں جائدادوں پر انتظام کے لئے گئے ہوئے تھے مدینہ میں جمع ہو گئے اور لشکر کے دوحصے کئے گئے ایک حصہ تو مدینہ کے باہر ان لوگوں کے مقابلہ کرنے کے لئے گیا اور دوسرا حصہ حضرت عثمان کی حفاظت کے لئے شہر میں رہا۔جب تینوں قافلے مدینے کے پاس پہنچے تو اہل بصرہ نے ذوخشب مقام پر ڈیرہ لگایا، اہل کوفہ نے اعواص پر اور اہل مصر نے ذوالمروہ 72