اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 71

کے مطابق شوال یعنی چاند کے دسویں مہینے حضرت عثمان کی خلافت کے بارھویں سال، چھتیسویں سال ہجری میں یہ لوگ تین قافلے بن کر اپنے گھروں سے نکلے۔ایک قافلہ بصرہ سے ایک کوفہ سے اور ایک مصر سے۔پچھلی دفعہ کی ناکامی کا خیال کر کے اور اس بات کو مدنظر رکھ کر کہ یہ کوشش آخری کوشش ہے عبد اللہ بن سبا خود بھی مصر کے قافلہ کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔اس رئیس المفسدین کا خود باہر نکلنا اس امر کی علامت تھا کہ یہ لوگ اب ہر ایک ممکن تدبیر سے اپنے مدعا کے حصول کی کوشش کریں گے۔چونکہ ہر ایک گروہ نے اپنے علاقہ میں حج پر جانے کے ارادہ کا اظہار کیا تھا کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ بارادہ حج شامل ہو گئے اور اس طرح اصل ارادے ان لوگوں کے عامتہ المسلمین سے مخفی رہے۔مگر چونکہ حکام کو ان کی اندرونی سازش کا علم تھا عبد اللہ بن ابی سرح والی مصر نے ایک خاص آدمی بھیج کر حضرت عثمان کو اس قافلہ اور اس کے مخفی ارادہ کی اطلاع قبل از وقت دے دی جس سے اہل مدینہ پہلے ہوشیار ہو گئے۔اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تک اہل مدینہ اور خصوصاً صحابہ ان لوگوں کے تین دفعہ آنے پر ان کو قتل کرنا چاہتے تھے اور ان کو یہ معلوم تھا کہ ان کا حج کے بہانہ سے آکر فساد کرنے کا ارادہ حضرت عثمان" پر ظاہر ہے۔تو پھر کیوں انہوں نے کوئی اور تدبیر اختیار نہ کی اور اسی پہلی تدبیر کے مطابق جن کا علم حضرت عثمان کو ہو چکا تھا سفر کیا۔کیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ در حقیقت اہل مدینہ ان لوگوں کے ساتھ تھے اسی وجہ سے یہ لوگ ڈرے نہ تھے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بے شک ان کی یہ دلیری ظاہر کرتی ہے کہ ان لوگوں کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔مگر اس کی یہ وجہ نہیں کہ صحابہ یا اہل مدینہ ان کے ساتھ تھے یا ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے۔بلکہ جیسا کہ خودان کے بیان سے ثابت ہے کہ صرف تین شخص مدینہ کے ان کے ساتھ تھے اور جیسا کہ 71