اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 73

پر۔اور مشورہ کیا گیا کہ اب ان کو کیا کرنا چاہئے۔گو اس لشکر کی تعداد کا اندازہ اٹھارہ سو آدمی سے لے کر تین ہزار تک کیا جاتا ہے۔( دوسرے حجاج جو ان کو قافلہ حج خیال کر کے ان کے ساتھ ہو گئے تھے وہ علیحدہ تھے مگر پھر بھی یہ لوگ سمجھتے تھے کہ دلاورانِ اسلام کا مقابلہ اگر وہ مقابلہ پر آمادہ ہوئے ان کے لئے آسان نہ ہوگا۔اس لئے مدینہ میں داخل ہوتے ہی پہلے اہل مدینہ کی رائے معلوم کرنا ضروری سمجھتے تھے۔چنانچہ دو شخص زیادہ بن النضر اور عبد اللہ بن الاصم نے اہل کوفہ اور اہل بصرہ کو مشورہ دیا کہ جلدی اچھی نہیں وہ اگر جلدی کریں گے تو اہل مصر کو بھی جلدی کرنی پڑے گی اور کام خراب ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اہل مدینہ نے ہمارے مقابلہ کے لئے لشکر تیار کیا ہے۔اور جب ہمارے پورے حالات معلوم نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اس قدر تیاری کی ہے تو ہمارا پورا حال معلوم ہونے پر تو وہ اور بھی زیادہ ہوشیاری سے کام لیں گے اور ہماری کامیابی خواب و خیال ہو جائے گی۔پس بہتر ہے کہ ہم پہلے جا کر وہاں کا حال معلوم کریں۔اور اہل مدینہ سے بات چیت کریں۔اگر ان لوگوں نے ہم سے جنگ جائز نہ سمجھی اور جو خبریں ان کی نسبت ہمیں معلوم ہوئی ہیں وہ غلط ثابت ہوئیں تو پھر ہم واپس آکر سب حالات سے تم کو اطلاع دیں گے اور مناسب کا روائی عمل میں لائی جائے گی۔سب نے اس مشورہ کو پسند کیا۔اور یہ دونوں شخص مدینہ گئے اور پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ملے۔اور ان سے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ ہم لوگ صرف اس لئے آئے ہیں کہ حضرت عثمان سے بعض والیوں کے بدل دینے کی درخواست کریں اور اس کے سوا ہمارا اور کوئی کام نہیں۔سب از اواج مطہرات نے ان کی بات کو قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس بات کا نتیجہ اچھا نہیں۔پھر وہ باری باری حضرت علی حضرت طلحہ 73