اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 38

دیئے گئے۔انہوں نے کوفہ میں جا کر وہاں کی حالت دیکھی تو حیران ہو گئے۔تمام او باش اور دین سے ناواقف لوگ قبضہ جمائے ہوئے تھے اور شرفاء محکوم و مغلوب تھے۔انہوں نے اس واقعہ کی حضرت عثمان کو خبر دی۔جنہوں نے ان کو نصیحت کی کہ جو لوگ بڑی بڑی قربانیاں کر کے دشمنوں کے مقابلہ کے لئے پہلے پہلے آتے تھے۔ان کا اعزاز و احترام قائم کریں ہاں اگر وہ لوگ دین سے بے توجہی برتیں تب بے شک دوسرے ایسے لوگوں کو ان کی جگہ دیں جو زیادہ دین دار ہوں۔جس وقت کوفہ میں یہ شرارت جاری تھی بصرہ بھی خاموش نہ تھاوہاں بھی حکیم بن جبلہ ابن السوداء کے ایجنٹ اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ حضرت عثمان کے نائبوں کے خلاف لوگوں میں جھوٹی تہمتیں مشہور کی جارہی تھیں۔مصر جو اصل مرکز تھا وہاں تو اور بھی زیادہ فساد بر پا تھا عبداللہ بن سبا نے وہاں صرف سیاسی شورش ہی بر پا نہ کر رکھی تھی بلکہ لوگوں کا مذہب بھی خراب کر رہا تھا۔مگر اس طرح کہ دین سے ناواقف مسلمان اسے بڑا مخلص سمجھیں۔چنانچہ وہ تعلیم دیتا تھا کہ تجب ہے کہ بعض مسلمان یہ تو عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لاویں گے مگر یہ نہیں مانتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ معبوث ہوں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآدُّكَ إِلَى مَعَادٍ (القصص :۸۶) یعنی وہ خدا جس نے قرآن کریم تجھ پر فرض کیا ہے تجھے ضرور لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس لاوے گا۔اس کی اس تعلیم کو اس کے بہت سے ماننے والوں نے قبول کر لیا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کے قائل 38