اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 37
تجویز کریں گے اور ولید کی مجلس میں جانا شروع کیا۔ایک دن موقع پا کر جب کہ کوئی نہ تھا اور ولید اپنے مردانہ میں جس کو زنانہ حصہ سے صرف ایک پردہ ڈال کر جدا کیا گیا تھا سو گئے۔ان دونوں نے ان کی انگشتری آہستہ سے اتار لی اور خود مدینہ کی طرف بھاگ نکلے کہ ہم نے ولید کو شراب میں مخمور دیکھا ہے اور اس کا ثبوت یہ انگوٹھی ہے جو ان کے ہاتھ سے حالت نشہ میں ہم نے اتاری اور ان کو خبر نہ ہوئی۔حضرت عثمان نے ان سے دریافت کیا کہ کیا تم لوگوں کے سامنے انہوں نے شراب پی تھی۔انہوں نے اس بات کے اقرار کی تو جرأت نہ کی کیونکہ سامنے شراب پینے سے ثابت ہوتا کہ وہ بھی ولید کے ساتھ شریک تھے۔اور یہ کہا کہ نہیں ہم نے ان کو شراب کی قے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔انگوٹھی اس کا ثبوت موجود تھی اور وہ گواہ حاضر تھے۔اور کچھ اور شریر بھی ان کی شہادت کو زیادہ وقیع بنانے کے لئے ساتھ گئے تھے وہ بھی اس واقعہ کی تصدیق بالقرائن کرتے تھے۔صحابہ سے مشورہ لیا گیا اور ولید کو حد شراب لگانے کا فیصلہ ہوا۔کوفہ سے ان کو بلوایا گیا اور مدینہ میں شراب پینے کی سزا میں کوڑے لگوائے گئے۔ولید نے گو عذر کیا اور ان کی شرارت پر حضرت عثمان کو آگاہ کیا مگر انہوں نے کہا کہ بحکم شریعت گواہوں کے بیان کے مطابق سزا تو ملے گی۔ہاں جھوٹی گواہی دینے والا خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا پائے گا۔(طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۴۶ تا ۲۸۴۸ مطبوعہ بیروت) ولید معزول کئے گئے اور ناحق ان پر الزام لگایا گیا مگر صحابہ کے مشورہ کے ماتحت حضرت عثمان نے ان کو حد لگائی۔اور چونکہ گواہ اور قرائن ان کے خلاف موجود تھے شریعت کے حکم کے ماتحت ان کو حد لگانا ضروری تھا۔سعید بن العاص ان کی جگہ والی کوفہ بنا کر بھیج 37