اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 90

دیر تک چھپا نہیں رہتا خصوصاً جب سینکڑوں کو اس سے واقف کیا جاوے۔حضرت عثمان کے نام پر لکھا ہوا خط پکڑا گیا اور عام اہل کوفہ نہایت غصہ سے واپس ہوئے تو ان میں سے ایک جماعت حضرت علی کے پاس گئی اور ان سے مدد کی درخواست کی حضرت علی تو تمام واقعہ کوسن کر ہی اس کے جھوٹا ہونے پر آگاہ ہو چکے تھے اور اپنی خداداد فراست سے اہل مصر کا فریب ان پر کھل چکا تھا۔آپ نے صاف انکار کر دیا کہ میں ایسے کام میں تمہارے ساتھ شریک نہیں ہو سکتا اس وقت جوش کی حالت میں ان میں سے بعض سے احتیاط نہ ہو سکی اور بے اختیار بول اٹھے کہ پھر ہم سے خط و کتابت کیوں کرتے تھے۔حضرت علی کے لئے یہ ایک نہایت حیرت انگیز بات تھی۔آپ نے اس سے صاف انکار کیا اور لاعلمی ظاہر کی اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی قسم ہے میں نے کبھی کوئی خط آپ لوگوں کی طرف نہیں لکھا۔(طبری جلد نمبر صفحه ۱۹۶۵ مطبوعہ بیروت) اس پر ان لوگوں کو بھی سخت حیرت ہوئی کیونکہ در حقیقت خود ان کو بھی دھوکا دیا گیا تھا۔اور انہوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھا اور دریافت کیا کہ کیا اس شخص کے لئے تم غضب ظاہر کرتے ہو اور لڑتے ہو یعنی یہ شخص تو ایسا بز دل ہے کہ سب کچھ کر کرا کر موقع پر اپنے آپ کو بالکل بری ظاہر کرتا ہے۔(نَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ) اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں بعض ایسے آدمی موجود تھے جو جعلی خطوط بنانے میں مہارت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ایسے آدمی مصریوں میں موجود تھے۔کیونکہ حضرت علی کے نام پر خطوط صرف مصریوں کی طرف لکھے جاسکتے تھے جو حضرت علی کی محبت کے دعویدار تھے۔پس اس خط کا جو حضرت عثمان کی طرف منسوب کیا جاتا تھا مصری 00 90