اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 89

سب سے زیادہ اس خط پر روشنی وہ غلام ڈال سکتا تھا جس کی نسبت ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ خط لے گیا تھا۔مگر تعجب ہے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عثمان نے گواہوں کا مطالبہ کیا ہے اس غلام کو پیش نہیں کیا گیا اور نہ بعد کے واقعات میں اس کا کوئی ذکر آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پیش کیا جانا ان لوگوں کے مفاد کے خلاف تھا۔شاید ڈرتے ہوں کہ وہ صحابہ کے سامنے آکر اصل واقعات کو ظاہر کر دے گا۔پس اس کو چھپا دینا بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ خط کے بنانے والا یہ مفسد گر وہ ہی تھا۔ایک نہایت زبر دست ثبوت اس بات کا کہ ان لوگوں نے ہی یہ خط بنا یا تھا یہ ہے کہ یہ پہلا خط نہیں جو انہوں نے بنایا ہے بلکہ اس کے سوا اسی فساد کی آگ بھڑ کانے کے لئے اور کئی خطوط انہوں نے بنائے ہیں۔پس اس خط کا بنانا بھی نہ ان کے لئے مشکل تھا اور نہ اس واقعہ کی موجودگی میں کسی اور شخص کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔وہ خط جو یہ پہلے بناتے رہے ہیں حضرت علی کے بدنام کرنے کے لئے تھے اور ان میں اس قسم کا مضمون ہوتا تھا کہ تم لوگ حضرت عثمان کے خلاف جوش بھڑ کا ؤ۔ان خطوط کے ذریعے عوام الناس کا جوش بھڑ کا یا جاتا تھا اور وہ حضرت علی کی تصدیق دیکھ کر عبد اللہ بن سبا کی باتوں میں پھنس جاتے تھے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان خطوط کا مضمون بہت مخفی رکھنے کا حکم تھا تا کہ حضرت علی کو معلوم نہ ہو جائے اور وہ ان کی تردید نہ کر دیں۔اور مخفی رکھنے کی تاکید کی وجہ بھی بانیانِ فساد کے پاس معقول تھی۔یعنی اگر یہ خط ظاہر ہوں گے تو حضرت علی مشکلات میں پڑ جاویں گے۔اس طرح لوگ حضرت علی کی خاطر ان خطوط کے مضمون کو کسی پر ظاہر نہ کرتے تھے۔اور بات کے مخفی رہنے کی وجہ سے بانیان فساد کا جھوٹ کھلتا بھی نہ تھا۔لیکن جھوٹ آخر زیادہ 89