اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 91

قافلہ میں پکڑ ا جانا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ اس کا لکھنے والا مدینہ کا کوئی شخص نہ تھا بلکہ مصری قافلہ کا ہی ایک فرد تھا۔خط کا واقعہ چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف الزام لگانے والوں کے نزدیک سب سے اہم واقعہ ہے اس لئے میں نے اس پر تفصیلا اپنی تحقیق بیان کر دی ہے اور گواس واقعہ پر اور بسط سے بھی بیان کیا جاسکتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے۔اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کہ یہ خط ایک جعلی اور بناوٹی خط تھا۔اور یہ کہ اس خط کے بنانے والے عبد اللہ بن سبا اور اس کے ساتھی تھے نہ کہ مروان یا کوئی اور شخص۔(حضرت عثمان کی ذات تو اس سے بہت ارفع ہے ) کافی ہے۔مفسدوں کی اہل مدینہ پر زیادتیاں اب میں پھر سلسلہ واقعات کی طرف لوٹتا ہوں۔اس جعلی خط کے زور پر اور اچانک مدینہ پر قبضہ کر لینے کے گھمنڈ پر ان مفسدوں نے خوب زیادتیاں شروع کیں۔ایک طرف تو حضرت عثمان پر زور دیا جاتا کہ وہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں۔دوسری طرف اہل مدینہ کو تنگ کیا جاتا کہ وہ حضرت عثمان کی مدد کے لئے کوشش نہ کریں۔اہل مدینہ بالکل بے بس تھے دو تین ہزار مسلح فوجی جو شہر کے راستوں اور چوکوں اور دروازوں کی ناکہ بندی کئے ہوئے تھے۔اس کا مقابلہ یوں بھی آسان نہ تھا مگر اس صورت میں کہ وہ چند آدمیوں کو بھی اکٹھا ہونے نہ دیتے تھے اور دو دو چار چار آدمیوں سے زیادہ آدمیوں کا ایک جگہ جمع ہونا ناممکن تھا۔باغی فوج کے مقابلہ کا خیال بھی دل میں لانا محال تھا۔اور اگر بعض من چلے جنگ پر آمادہ بھی ہوتے تو سوائے ہلاکت کے اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلتا۔مسجد ایک ایسی 91