اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 70

ہی نہیں تھی۔اسی وقت حضرت عثمان کو قتل کر دیتے اور ان کی جگہ کسی اور شخص کو خلافت کے لئے منتخب کر لیتے۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں کامیاب ہوتے خود ان کی جانیں صحابہ کی شمشیر ہائے برہنہ سے خطرہ میں پڑ گئی تھیں۔اور صرف اسی رحیم و کریم وجود کی عنایت و مہربانی سے یہ لوگ بیچ کر واپس جا سکے جس کے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے تھے اور جس کے خلاف اس قدر فساد برپا کر رہے تھے۔ان مفسدوں کی کینہ وری اور تقویٰ سے بُعد پر تعجب آتا ہے کہ اس واقعہ سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا ان کے ایک ایک اعتراض کا خوب جواب دیا گیا۔اور سب الزام غلط اور بے بنیا د ثابت کر دیئے گئے۔حضرت عثمان ” کا رحم وکرم انہوں نے دیکھا اور ہر ایک شخص کی جان اس پر گواہی دے رہی تھی کہ اس شخص کا مثیل اس وقت دنیا کے پردہ پر نہیں مل سکتا۔مگر بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں سے تو بہ کرتے جفاؤں پر پشیمان ہوتے ، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے ، اپنی شرارتوں سے رجوع کرتے ، یہ لوگ غیظ و غضب کی آگ میں اور بھی زیادہ جلنے لگے اور اپنے لاجواب ہونے کو اپنی ذلت اور حضرت عثمان کے عفو کو اپنی حسن تدیر کا نتیجہ سمجھتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی بقیہ تجویز کے پورا کرنے کی تدابیر سوچتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔مفسدوں کی ایک اور گہری سازش واپس جا کر ان لوگوں نے پھر خط و کتابت شروع کی اور آخر فیصلہ کیا کہ شوال میں اپنی پہلی تجویز کے مطابق حج کے ارادہ سے قافلہ بن کر نکلیں اور مدینہ میں جا کر یک دم تمام انتظام کو درہم برہم کر دیں اور اپنی مرضی کے مطابق نظام حکومت کو بدل دیں۔اس تجویز 70