اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 69
حضرت عثمان کا مفسدوں پر رحم کرنا اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسد لوگ کسی کس قسم کے فریب اور دھوکے سے کام کرتے تھے اور اس زمانہ میں جب کہ پریس اور سامان سفر کا وہ انتظام نہ تھا جو آج کل ہے کیسا آسان تھا کہ یہ لوگ ناواقف لوگوں کو گمراہ کر دیں۔مگر اصل میں ان لوگوں کے پاس کوئی معقول وجہ فساد کی نہ تھی۔نہ حق ان کے ساتھ تھا نہ یہ حق کے ساتھ تھے۔ان کی تمام کاروائیوں کا دارو مدار جھوٹ اور باطل پر تھا اور صرف حضرت عثمان کا رحم ان کو بچائے ہوئے تھا۔ورنہ مسلمان ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔وہ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ وہ امن و امان جو انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا تھا چند شریروں کی شرارتوں سے اس طرح جاتا رہے اور وہ دیکھتے تھے کہ ایسے لوگوں کو اگر جلد سزا نہ دی گئی تو اسلامی حکومت تہ و بالا ہو جائے گی۔مگر حضرت عثمان رحم مجسم تھے وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ہو ان لوگوں کو ہدایت مل جائے اور یہ کفر پر نہ مریں پس آپ ڈھیل دیتے تھے اور ان کے صریح بغاوت کے اعمال کو محض ارادہ بغاوت سے تعبیر کر کے سزا کو پیچھے ڈالتے چلے جاتے تھے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ ان لوگوں سے بالکل متنفر تھے کیونکہ اوّل تو خود وہ بیان کرتے ہیں کہ صرف تین اہل مدینہ ہمارے ساتھ ہیں اس سے زیادہ نہیں اگر اور صحابہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تو وہ ان کا نام لیتے۔دوسرے صحابہ نے اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ ان لوگوں کے افعال سے متنفر تھے۔اور ان کے اعمال کو ایسا خلاف شریعت سمجھتے تھے کہ سزا قتل سے کم ان کے نزدیک جائز ہی نہ تھی۔اگر صحابہ ان کے ساتھ ہوتے یا اہل مدینہ ان کے ہم خیال ہوتے تو کسی مزید حیلہ و بہانہ کی ان لوگوں کو کچھ ضرورت 69